Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

میں عورتوں کے ووٹ کا بڑا حصہ جان کینڈی کو ملاتھا۔(صفحہ 27) امریکہ کے مرد سیاست داں عورتوں کے مطالبات پورے کرنے میں چست رہے ہیں۔ مثلاً یکساں کام کے لیے یکساں تنخواہ۔ طلاق اور اسقاط کی آسانیاں۔ ڈے کیئر سنٹر کا انتظام۔ خاتون صدر مملکت کا تصور اب تک امریکہ میں مذاق سمجھا جاتا رہا ہے۔ مسز روزویلٹ نے 1934 میں کہا تھا ’’ابھی ہم اس نوبت کو نہیں پہنچے ہیں کہ عوام کی اکثریت ایک عورت کی صدارت پر مطمئن ہو سکے‘‘۔ کیا آج امریکی ووٹرز اس نوبت کو پہنچ چکے ہیں۔ غالباً نہیں، حتی کہ وہ عورت کو وائس پریذیڈنٹ کی کرسی پر بھی نہیں دیکھ سکتے۔ حال میں ایک آزمائشی رائے شماری میں خود عورتوں کی بڑی تعداد نے امریکی مرد کی صدارت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اگر امریکہ میں کسی خاتون کے صدر یا نائب صدر ہونے کا امکان ہے تو یہ تعجب انگیز خبر صرف 2000ء میں پیش آسکتی ہے۔ مستقبل کی کسی خاتون امیدوار کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اس سے پہلے بڑی تعداد میں سرکاری خدمات انجام دے چکی ہوتا کہ ذمہ داری اور اقتدار کے عہدوں میں اس کی شخصیت عوام کے دماغ میں بیٹھ جائے۔ جیسا کہ اندرا گاندھی اورگ ولڈ امیر کے ساتھ ہوا۔ اس کی ذات کو سیاسی طور پر معروف ہونا چاہیے، نہ کہ جنسی طور پر۔ ووٹر لازمًا یہ چاہیں گے کہ خاتون امیدوار میں بھی وہی صفات ہوں جو وہ مرد میں دیکھتے ہیں۔ لیاقت حوصلہ، تجربہ، استحکام، ذہانت۔ یہ افواہ‘ کہ عورتیں صلاحیت میں کم تر ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسال پہلے سرجن ایڈ گر برمن کا ایک بیان عورتوں کے حلقے میں بڑی خفگی کا سبب ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ عورتیں اپنی ہارمون کمسٹری کی وجہ سے اقتدار کے مناصب کے لیے جذباتی (emotional) ہوسکتی ہیں۔ مسز برنچ ایک عالم فلکیات ہیں۔ مگر انھیں شکایت ہے کہ مردوں کے تسلط والی دنیا نے سائنس میں انھیں ان کی صحیح جگہ نہ مل سکی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page