خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ میں کام کرنے والوں کے درمیان عورتوں کی تعداد 40 فی صد ہے۔ مگر امریکہ کے 35000 سائنس دانوں میں خاتون سائنس دانوں کی تعداد صرف 10 فی صد ہے۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری یافتہ خواتین مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ اس لیے وہ اعلیٰ سائنسی عہدوں پر بہت کم پہنچ پاتی ہیں۔ مثلاً نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے منتخب ممبروں کی تعداد 800 سے زیادہ ہے جس میں خواتین صرف 9 ہیں۔ سائنس کا نوبل پرائز پانے والے 278 لوگوں میں صرف 6 عورتیں شامل ہیں۔ حال میں عورتوں کے سلسلے میں رجحان میں کچھ تبدیلی ہوئی ہے۔ مگر یہ صورت حال اب بھی باقی ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹے درجے کے عہدوں کے لیے منتخب کی جاتی ہیں۔ (صفحہ 20) کیا عورتیں غیر متغیر طور پر مردوں سے مختلف ہیں، آزادی نسواں کے علمبرداروں کا یقین ہے کہ جسمانی پہلو کو چھوڑ کر جتنے بھی فرق ہیں وہ سب سماجی حالات کے پیدا کردہ ہیں۔ دوسرے نقطۂ نظر کے حاملین کا کہنا ہے کہ ہر قسم کے فرق جین کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ جین کے اندر صنفی میلان ہونا تین مشاہدات سے اخذ کیا گیا ہے۔ پہلی چیز مارگریٹ میڈ کے الفاظ میں تہذیبی عالمگیر یت۔ تقریباً ہر جگہ یہ مثال ملتی ہے کہ ماں بچہ کی نگہداشت کی ذمہ دار ہے اور مرد کا غلبہ مسلمہ طور پر رائج ہے۔ علم الانسان کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ عورتوں کے غلبہ کا سماج بھی دنیا میں کبھی پایا گیا ہے مگر دوسرے اس کا قطعا انکار کرتے ہیں۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ زمین پر پائے جانے والے بیشتر حیوانات میں نر (male) ہی غالب ہوتا ہے۔ وہ مادہ اور بچوں کی حفاظت کرتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ صورت حال اس وقت بھی باقی رہتی ہے جب کہ کسی جانور کے بچوں کو شروع ہی میں الگ کر کے پرورش کی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنا صنفی عمل اپنے معاشرے سے نہیں سیکھتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader