خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
آخری بات یہ ہے کہ کرداری صنفی فرق بچپن میں اس سے بہت پہلے ظاہر ہو جاتا ہے جب کہ ایک بچہ امکانی طور پر ماں اور باپ کا فرق سمجھتا ہو۔ یہ یہ جان سکے کہ والدین میں سے کس کی اسے نقل کرنی چاہیے۔ ایک سائنس داں نے کہا ہے کہ زیادہ بہتر مفروضہ یہ ہے کہ ہم یہ مانیں کہ صنفی فرق کے پیچھے حیاتیاتی عوامل کام کر رہے ہیں۔ طبیعیاتی فرق پیدائش سے بھی پہلے ظاہر ہو جاتے ہیں، بچہ جب ابتدائی حالت میں رحم کے اندر ہوتا ہے، اس وقت دیکھا گیا ہے کہ بچی کا دل اکثر زیادہ تیزی سے دھڑکتا ہے۔ ایک سوشیا لوجسٹ نے کہا ہے کہ عورت زیادہ بہتر تخلیق کا نمونہ ہے۔ مرد زیادہ طاقت ور اور متحمل ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ ٹیکنالوجیل سماج میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ حالیہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ عورتوں اور مردوں کے دماغ میں بھی صنفی فرق ہو سکتے ہیں۔ کچھ تجربہ کرنے والوں کے نزدیک رحم کے ابتدائی جراثومہ کے اندر مردانہ ہارمون کی موجودگی اس کے دماغ کو جنس مذکر بنانے کا سبب ہو سکتی ہے۔ پیدائش سے پہلے مرکزی اعصابی نظام میں یہ جنسیت مردوں اور عورتوں کے اندرونی احساسات میں فرق پیدا کر سکتی ہے۔ سوشیا لوجسٹ جان گیگنن (John Gagnon) کا کہنا ہے: درحقیقت بعض حالات میں نومولود لڑکیاں مختلف قسم کے تاثرات ظاہر کرتی ہیں۔ ان کو چھوا جائے یا ان کے اوپر سے کپڑا ہٹایا جائے تو بہت تیزی سے ان پر اس کا ردعمل ظاہر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ تجربہ بات بتاتے ہیں کہ بارہ ہفتہ کی لڑکیاں جیومیٹری کی اشکال کے مقابلہ میں چہروں کی تصویروں کو زیادہ دیر تک دیکھتی ہیں۔ لڑکے کے اس قسم کا فرق نہیں کرتے۔ اگرچہ بالآخر وہ جیومیٹری کی اشکال کو زیادہ متوجہ ہو کر دیکھتے ہیں۔ تجربہ کیا گیا ہے کہ اگر کھیل کے ٹکڑوں سے گھر بنانے کے لیے کہا جائے تو 10 سے 12 سال کی لڑکیاں گھر کے اندرونی حصہ کو عمدہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ جب کہ اسی عمر کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader