خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
کشاکش نہیں ہوگی جو انسان کے صحت مند ارتقاء کے لیے ضروری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ فرق ہونا نقص کی بات نہیں۔ عالم حیاتیات آئون سٹڈ نے کہا ہے: "ہم سب انسانی وجود ہیں اور اس اعتبار سے برابر ہیں مگر سب یکساں نہیں۔" دوسرے عالم حیاتیات جان منی کے نزدیک " آپ صرف اس وقت صحیح عمل کر سکتے ہیں جب کہ مسلمہ فرق کو مانیں اور اس کا احترام کریں۔" امریکہ میں عورتیں تعلیم کے میدان میں بہت آگے ہیں مگر وہ شعبے جو روایتی طور پر مردوں کے سمجھے جاتے رہے ہیں ان میں عورتوں کا تناسب بہت ہی کم ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر نے تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ اس کی بڑی وجہ عورتوں کا مقابلہ سے گھبرانا ہے۔ اس خاتون نے اپنے تجربات میں پایا کہ مرد مقابلہ کے لیے پر جوش طور پر تیار رہتے ہیں جبکہ عورتیں اس کے لیے تیار نہیں پائی گئیں۔ اس سلسلے میں اعداد و شمار بھی افسوسناک ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی عورت آج پہلے سے زیادہ مشقتوں میں مبتلا ہے۔ عورتوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ پہلے یہ تھا کہ مرد اپنے آپ کو زیادہ ہلاک کرتے تھے۔ مگر اب صورت حال برعکس ہوگئی ہے۔ مثلاً لاس اینجلس میں 1960 میں خودکشی کرنے والوں میں 35 فی صد عورتیں تھیں مگر 1971 میں ان کی تعداد 45 فی صد تک پہنچ گئی۔ وسکنس یونیورسٹی کے ایک جائزہ میں بتایا گیا ہے کہ نفسیاتی علاج کے لیے رجوع کرنے والوں میں عورتیں مردوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ اضطراب اور حالات سے نہ لڑنے کی صلاحیت کی شکایت کرتی ہیں۔ امریکی معاشرہ کی ایک اور چیز قابل ذکر ہے جس کو صنفی انقلاب کہا جاتا ہے۔ نئی نسل کے لڑکے اور لڑکیاں شادی سے پہلے صنفی تعلقات کو برا سمجھنے کے بجائے اچھا خیال کرنے لگے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دوشیزگی کا احترام ختم ہو گیا ہے۔ 1970 کے ایک گیلپ پول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader