خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
میں چار میں تین طلبہ نے شادی کے لیے دوشیزگی کو ناقابلِ لحاظ قرار دیا۔ یونیورسٹی آف مینی سوٹا کے ماہر سماجیات نے پایا کہ 20 سال کی عمر تک کی عورتوں میں 40 فی صد اپنی دوشیزگی کھو چکی تھیں اور شادی کے وقت 70 فی صد جنسی تجربہ کر چکی تھیں۔ انگریز عالم جینیات جان سوم کا کہنا ہے: 1950 سے پہلے کا بوسہ آج کا جنسی عمل بن چکا ہے۔ یونیورسٹی آف مشی گان کے ایک پروفیسر نے گولیوں کے جائزہ میں پایا کہ وہ حمل کو رو کنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں اور عام خیال کے مطابق وہ عورتوں کے لیے جنسی اجازت نامہ نہ بن سکیں۔ اکثر وہ ناجائز حمل میں مبتلا پائی گئی ہیں۔ دوسرے شعبوں کے برعکس جرنلزم میں عورتیں بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں مگر اہم بات یہ ہے کہ ان کی بہت کم تعداد ملے گی جو اہم پوزیشن کی مالک ہو۔ وہ یا تو رپورٹر ہیں یا ایڈیٹر ہیں۔ ان کی بڑی تعداد یا تو ہفتہ وار اخباروں میں یا چھوٹے درجہ کے روزناموں میں کام کرتی ہے جس میں تنخواہیں عام طور پر کم ہیں۔ کوئی اخباری ادارہ یا کوئی اشاعتی تنظیم ایسی نہیں ہے جو عمومی ہو اور اس کی صدر کوئی خاتون ہو۔ حالانکہ 1971 میں امریکا کے جرنلزم اسکولوں کے طلبہ میں 44 فی صد خواتین تھیں، جب کہ 1950 میں ان کی تعداد 35 فی صد تھی۔ امریکا کے نیوز پیپرز میں خاتون ایڈیٹروں کی تعداد 35 فی صد ہے۔ مگر یہاں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ امریکا کے عظیم ادارہ ایسوسی ایٹڈ پریس میں اسٹاف ممبروں کی تعداد 1050 ہے۔ جس میں صرف 112 عورتیں ہیں اور صرف دو عورتیں بیورو منیجر ہیں۔ یونائیٹڈ پریس انٹرنیشنل کے ملازمین کی تعداد 900 ہے مگر ان میں عورتیں صرف 81 ہیں۔ ان میں سے ایک عورت جنرل نیوز ایڈیٹر ہے۔ نیویارک ٹائمز میں ایڈیٹروں، رپورٹروں، کاپی ریڈروں کی تعداد 626 ہے، جس میں عورتیں صرف 64 ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ میں 385 میں 70 عورتیں ہیں۔ یہی دوسرے بڑے اکثر اخبارات میں عورتیں کھانے، فیشن، ٹیلی ویژن اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader