خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
خواتین سے متعلق خبروں پر مامور ہیں۔ میگزینوں میں نسبتاً عورتوں کی تعداد زیادہ پائی جاتی ہے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں بھی مردوں ہی کا غلبہ ہے۔ (صفحہ 37) تحریک نسواں کے علم برداروں کا کہنا ہے کہ وہ تمام الفاظ جو مردوں کے غلبہ کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ سب مردوں کی ایجاد ہیں اور ان کو بالکل ختم کر دینا چاہیے۔ یہ لوگ زبانوں کا نیا لغت تیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ مثلاً مرد کے لیے مسرنکسن اور عورت کے لیے مسرنکسن کے بجائے دونوں کا الگ الگ نام لیا جائے اور مسٹر اور مزان کے ناموں کے ساتھ لگایا جائے۔ اسی طرح چیرمین کے بجائے پرسن۔ تحریک نسواں کے علم بردار کہتے ہیں کہ عورتوں کو اگر سماجی سرگرمیوں میں پوری طرح شریک کرنا ہے تو ان کے لیے چائلڈ ڈے کیئر سنٹر قائم کرنے ہوں گے جہاں وہ کام پر جاتے ہوئے اپنے چھوٹے بچوں کو چھوڑ سکیں۔ امریکہ میں اس قسم کے سنٹر قائم کیے گئے ہیں جو ڈے کیئر سنٹر کہے جاتے ہیں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ وہ بہت مہنگے ہیں اگرچہ کم آمدنی والوں کے لیے 20 ڈالر فیس رکھی گئی ہے۔ لیکن اگر ماں کی ماہانہ آمدنی 600 ڈالر ہے تو اس کو چائلڈ کیئر سنٹر سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی تنخواہ کا تہائی حصہ (200 ڈالر) بطور فیس دے دینا پڑے گا۔ اس لیے تحریک نسواں والوں کا ایک بڑا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت اپنے خرچ پر اس قسم کے مراکز قائم کرے۔ حکومت کی طرف سے جو ادارے قائم ہیں، ان میں ایک بچہ کے اوپر 2400 ڈالر خرچ ہوتے ہیں سر پرستوں سے حقیقتاً اس کا بہت تھوڑا سا جزء وصول کیا جاتا ہے۔ (صفحہ 40) تحریک نسواں کے علم بردار شادی کے قدیم طریقہ پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ شادی کا یہ طریقہ ان کے نزدیک ایک سردار (شوہر) اور ایک غلام (بیوی) کو جمع کرنے کا دوسرا نام ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader