خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹروں کی کمی کو خواتین کی طبی تعلیم کے ذریعہ دور کیا جا سکتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس سلسلے میں تحقیق کرنے والوں نے مریضوں کے اندر ایک قسم کا تعصب پایا ہے۔ ڈاکٹر ایڈگر نگمین نے نیو یارک سٹی کے تین اسپتالوں میں 500 مریضوں سے سوالات کیے۔ 84 فی صد عورتوں نے اپنے جواب میں مرد ڈاکٹر کو ترجیح دی۔ اگرچہ ان کی نصف تعداد نے اعتراف کیا کہ خاتون ڈاکٹر مرد ڈاکٹر کے مقابلہ میں زیادہ نرم اور با اخلاق ہوتی ہے۔ 54 فی صد نے بتایا کہ عورتیں مرد کے مقابلہ میں کمتر صلاحیت کی ڈاکٹر ہوتی ہیں۔ اگرچہ بعض کے نزدیک یہ جوابات مردانہ تسلط والے کلچر کا نتیجہ ہیں۔ ایک مریض نے کہا: مرد ڈاکٹر کی واقفیت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ وہ اپنے ذہن کو پوری طرح مریض کی طرف لگاتا ہے۔ جب کہ عورت کے لیے گھر کے مسائل ہوتے ہیں۔” کیسے ممکن ہے کہ وہ گھر بھی بنائیں اور ڈاکٹر بھی بنیں “ ایک مریض نے جواب دیا۔ بعضوں نے اور بھی زیادہ سخت جوابات دیے ۔ جہاں تک سرجری کا تعلق ہے اس میں عورتیں تقریباً نفی کے برابر ہیں۔ ایک خاتون ڈاکٹر نے کہا ”مردوں کی انا کی وجہ سے اب تک سرجری کے دروازے عورتوں کے اوپر بند ہیں۔ خاتون سرجن کی سینکڑوں طریقہ سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ایک خاتون میڈیکل طالبہ نے کہا۔ اگر آپ کھڑے ہونے کے علاوہ کسی اور طریقہ سے پیشاب کرنا چاہیں تو یہاں یہ ایک مسئلہ ہے۔ میڈیسن مردوں کی دنیا ہے۔ عورتیں ابھی حال میں اس میدان میں داخل ہوئی ہیں۔ وہ ڈاکٹر کے بجائے زیادہ تر نرس کی حیثیت سے کام کرتی رہی ہیں۔ 10 سال پہلے امریکا کے 260000 ڈاکٹروں میں عورتیں صرف 6 فی صد تھیں۔ اب وہ 345000 ڈاکٹروں میں 7 فی صد ہیں۔ سرجنوں میں وہ صرف ایک فی صد ہیں جو اس پیشہ میں سب سے زیادہ کمائی والا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader