دیباچہ
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر ایک ایسے خالق کو نہ مانا جائے جس نے دو الگ الگ چیزوں کے درمیان اس مطابقت کو قائم کیا، تو اس ظاہرے کی کوئی قابل فہم توجیہہ ممکن نہیں۔ اسی طرح مختلف شعبوں میں سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزاء آپس میں بے حد مربوط ہیں، اور ان کے درمیان ایک انتہائی فائُن ٹیوننگ (fine-tuning) پائی جاتی ہے تو اس مائنڈ باگلنگ (mind-boggling) ظاہرے کی ضرور کوئی توجیہہ ہونی چاہیے۔ سائنس کوئی مذہبی سبیکٹ نہیں، سائنس کا موضوع خالق کی دریافت نہیں۔ سائنس کا موضوع تخلیق (creation) کی دریافت ہے۔ لیکن تخلیق کے ہر جزء پر خالق کی شہادت ثبت (stamped) ہے۔ تخلیق (creation) کا ذرہ ذرہ خالق (Creator) کے وجود کی گواہی دیتا ہے۔ اس لیے تخلیق کا مطالعہ عملاً خالق کا مطالعہ بن گیا۔ سائنس نے اپنے مطالعے کے ذریعے جو چیزیں دریافت کیں، وہ سب خدائی نشانیوں کا اظہار بن گئیں جن کو قرآن میں ’آیات اللہ (signs of God) کہا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ تخلیق کی معنویت کی دریافت عملاً ایک بامعنی خالق کی دریافت ہے۔ خدا کی معرفت اول دن سے راقم الحروف کی تلاش کا مرکز رہا ہے۔ میرے دن اور میری راتیں اسی تلاش میں گزری ہیں، یہاں تک کہ شاید میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کو پالیا ہے۔ 1960 کے آس پاس کی بات ہے۔ میں اپنے بڑے بھائی کے گھر 9 بدرقہ روڈ، اعظم گڑھ میں تھا۔ وہاں میری ملاقات شاہ نصیر احمد صاحب سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران اچانک انھوں نے کہا: کیا انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے۔ میری زبان سے نکلا: کیا آپ نے ابھی تک خدا کو نہیں دیکھا۔ اس طرح کے تجربات میری زندگی میں بہت زیادہ ہیں۔ تاہم اس دنیا میں خدا کو دیکھنا مجازی معنی میں ہے، نہ کہ حقیقی معنی میں۔ کیوں کہ حقیقی معنی میں اللہ رب العالمین کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader