Urdu book · خدا کی دریافت

دماغ کے مختلف حصے

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

دماغ کے مختلف حصے کس طرح رابطہ قائم کرتے ہیں پروفیسر ہوریس بارلو (پیدائش 1921)، کیمبرج: ہم تقریباً مکمل طور پر اس بات سے بے خبر ہیں کہ دماغ کے مختلف حصے کیوں کر ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اُس وقت دماغ کے سننے والے حصے میں اور بقیہ حصوں میں کس قسم کا ربط قائم ہوتا ہے، جب کہ ہم کسی مانوس آواز کو پہچانتے ہیں۔ تم بول کر مثال میں پیش کر سکتے ہو۔ وہ صوتی لہروں پر چلتی ہے۔ مگر وہ ایک بچے کی تلاہٹ سے کہیں زیادہ با معنی ہوتی ہے، جو خود بھی صوتی لہروں پر چلتی ہے۔ دماغ کے اندر عصبی حرکات صوتی لہروں کے مساوی ہوتی ہیں۔ مگر ہم کچھ نہیں جانتے کہ وہ کس طرح با معنی ہو جاتی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page