انسان کب سے زمین پر ہے
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
تبصرہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک ایسا واقعہ ہے، جس کی توجیہ خالق کو مانے بغیر نہیں ہوسکتی۔ سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات میں عددی تناسب ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی تخلیق میں ایک ریاضیاتی ذہن کام کر رہا ہے۔ انسان کی بناوٹ میں اتنی حکمتیں کارفرما ہیں کہ کوئی بھی طبعیاتی توجیہ اس کی تشریح کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ ایک جاندار کی آنکھ نکال کر اس کو دوبارہ الٹ کر لگا دیا جائے تو وہ جان دار اب بھی دیکھے گا۔ مگر اس کو ہر چیز الٹی دکھائی دے گی۔ جسم کے مختلف اجزا جو انتہائی صحت کے ساتھ کام کرتے ہیں، وہ ایک بے حد نازک ترکیب کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ آواز سائنسی اعتبار سے کچھ لہروں کا نام ہے، مگر یہ لہریں انسان کے دماغ میں داخل ہو کر بامعنی کلام کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس قسم کے بے شمار عجائب ہماری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ یہ یقینی طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ دنیا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ظہور میں آنے والا واقعہ ہے۔ اس کے پیچھے ایک اعلیٰ ذہن ہے، جو زبردست طاقت کے ساتھ اس کو کنٹرول کر رہا ہے۔ کائنات کے نظم اور معنویت کی اس کے سوا کوئی اور توجیہ نہیں کی جاسکتی۔ دنیا کے بارے میں انسان کی لاعلمی ایک بہت بڑے علم کا پتہ دے رہی ہے۔ یہ علم کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے جو اس کو حد درجہ حکمت کے ساتھ چلا رہا ہے۔ ان علمی تحقیقات کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے ــ علم کا در یا حیرت انگیز طور پر خدا کے اقرار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں ہونے والی طبیعی تحقیقات حیرت انگیز طور پر انسان کو ”مافوق الطبیعی‘‘ منزل پر پہنچارہی ہیں۔ ہر علمی شعبے میں یہ صورت حال پیش آرہی ہے کہ محققین اپنی تلاش جستجو میں جب آگے بڑھتے ہیں تو بالآخر وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طبعی قانون کی حد ختم ہوگئی اور مافوق الطبیعی قوتوں کی کارفرمائی شروع ہوگئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader