Urdu book · خدا کی دریافت

مخالفین مذہب کا استدلال

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

سے باہر ہے کہ ”جو کچھ ہے وہ کیوں ہے“ جب کہ توجیہ کا تعلق اسی دوسرے پہلو سے ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ مرغی کا بچہ انڈے کے مضبوط خول کے اندر پرورش پاتا ہے، اور اس کے ٹوٹنے سے باہر آتا ہے۔ یہ واقعہ کیوں ہوتا ہے کہ خول ٹوٹے اور بچہ گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں ہوتا، وہ باہر نکل آئے۔ پہلے کا انسان اس کا جواب یہ دیتا تھا کہ ”خدا ایسا کرتا ہے“۔ مگر اب خورد بینی مشاہدہ (microscopic observation) کے بعد معلوم ہوا کہ جب 21 روز کی مدت پوری ہونے والی ہوتی ہے، اس وقت ننھے بچے کی چونچ پر ایک نہایت چھوٹی سی سخت سینگ ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آ جاتا ہے۔ سینگ اپنا کام پورا کر کے بچے کی پیدائش کے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے۔ مخالفین مذہب کے نظریے کے مطابق یہ مشاہدہ اس پرانے خیال کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ بچے کو باہر نکالنے والا خدا ہے۔ کیونکہ خورد بین کی آنکھ ہم کو صاف طور پر دکھا رہی ہے کہ ایک 21 روزہ قانون ہے، جس کے تحت وہ صورتیں پیدا ہوتی ہیں، جو بچے کو خول کے باہر لاتی ہیں۔ مگر یہ مغالطے کے سوا اور کچھ نہیں۔ جدید مشاہدے نے جو کچھ ہمیں بتایا ہے، وہ صرف واقعے کی چند مزید کڑیاں ہیں، اس نے واقعے کا اصل سبب نہیں بتایا۔ اس مشاہدے کے بعد صورتِ حال میں جو فرق ہوا ہے، وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ پہلے جو سوال خول کے ٹوٹنے کے بارے میں تھا، وہ ”سینگ“ کے اوپر جا کر ٹھہر گیا۔ بچہ کا اپنی سینگ سے خول کو توڑنا، واقعے کی صرف ایک درمیانی کڑی ہے، وہ واقعے کا سبب نہیں ہے۔ واقعے کا سبب تو اس وقت معلوم ہوگا، جب ہم جان لیں کہ بچے کی چونچ پر سینگ کیسے ظاہر ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں اس آخری سبب کا پتہ لگا لیں، جو بچے کی اس ضرورت سے واقف تھا کہ اس کو خول سے باہر نکلنے کے لیے کسی سخت مددگار کی ضرورت ہے، اور اس نے مادہ کو مجبور کیا کہ عین وقت پر ٹھیک 21 روز بعد وہ بچہ کی چونچ پر ایک ایسی سینگ کی شکل میں نمودار ہو، جو اپنا کام پورا کرنے کے بعد جھڑ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page