کائنات بول رہی ہے
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
”یہ قدرت کا قانون ہے۔“ ”وہ کیا چیز ہے جس کو آپ قانونِ قدرت کہتے ہیں۔“ ”اس سے میری مراد طبیعی اور کیمیاوی طاقتوں کا اندھا عمل ہے (Blind interplay "(of physical and chemical forces۔“ ”مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں، جو انہیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے۔ کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اُڑنے کے قابل ہو سکے، ایک مچھلی تیر سکے اور ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آئے۔“ ”میرے دوست، مجھ سے یہ نہ پوچھو، سائنس داں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیا ہے۔ اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے۔“ یہ سوال وجواب موجودہ سائنس کی حقیقت واضح کر رہا ہے۔ بے شک سائنس نے ہم کو بہت سی نئی باتیں بتائی ہیں۔ مگر اس نے جو کچھ بتایا ہے وہ صرف کچھ ہونے والے واقعات ہیں۔ وہ واقعات کیوں کر ہو رہے ہیں اس کا جواب سائنس کے پاس نہیں ہے۔ ایک مکھی کے نازک اعضا کس طرح کام کرتے ہیں۔ بے شک سائنس نے اس سلسلے میں ہم کو بہت کچھ بتایا ہے، مگر وہ کون ذہن ہے، جس نے سوچا کہ مکھی کو ان نازک اعضا کی ضرورت ہے، اور اس کو کمال کاریگری کے ساتھ ایسے اعضا فراہم کیا۔ کائنات کے نظم اور اس کی موزونیت (appropriateness) کی تشریح کرنے کے لیے اور یہ بتانے کے لیے کہ مختلف قسم کی بے شمار اندھی طاقتیں ایک مخصوص انجام کی طرف اپنا عمل کیوں کرتی ہیں— ہم کو ان طاقتوں کی موجودگی کے سوا کس چیز کی ضرورت ہے۔ ایک بچھے ہوئے بستر کی تشریح محض اس طرح نہیں ہوسکتی کہ آپ چادر، تکیہ اور پلنگ کے نام لے لیں۔ ایک محل، نام ہے لاکھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader