کائنات بول رہی ہے
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
اینٹیں اور دوسری چیزیں اپنے صحیح ترین مقام پر نصب ہونے کا۔ انسانی جسم کے کسی چھوٹے سے چھوٹے عضو کے وجود میں آنے کے لیے ضروری ہے کہ کروڑوں ایٹم ایک منفرد اور مخصوص ترتیب کے ساتھ یک جا ہوں۔ اندھی طاقتیں ہرگز اس طرح کی مقصدیت کا اظہار نہیں کرسکتیں، وہ واقعات کے اندر معنویت اور ہم آہنگی پیدا نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ فطرت کا قانون کائنات کا ایک واقعہ ہے، وہ کائنات کی توجیہہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے، جو خود اپنے وجود کے لیے ایک توجیہہ کا طالب ہے۔ اس موقع پر مصنف کے الفاظ نقل کرنے کے قابل ہیں۔ وہ لکھتا ہے ــ قانون قدرت کائنات کی تشریح نہیں کرتا۔ وہ خود اس کا طالب ہے کہ اس کی تشریح کی جائے: Nature does not explain, she is herself in need of an explanation. اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی چیز میں معنویت کا ہونا، اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کوئی ذہن کام کررہاہے۔ زندگی کا جرثومہ جو ایک مرد کے جسم میں پرورش پاتا ہے، وہ جسم کے دوسرے خلیوں (cells) کے بالکل مشابہ ہوتا ہے، مگر اس میں دوسرے خلیوں سے بالکل مختلف خصوصیت ہوتی ہے، اس کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ عورت کے ایک خلیہ سے ہم آہنگ ہوکر مکمل طور پر ایک نیا انسان وجود میں لاسکے۔ یہ کس طرح ممکن ہوتا ہے کہ دو خلیے جن میں سے ہر ایک دو بالکل مختلف جسموں میں پرورش پاتے ہیں، وہ اس قدر حیرت انگیز طور پر باہم مل کر عمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیا ایک تخلیقی ذہن کی کارفرمائی تسلیم کیے بغیر اس کی تشریح کی جاسکتی ہے۔ کائنات میں ایک تخلیقی ذہن کو ماننا محض ایک بے بنیاد روایت کو ماننا نہیں ہے۔ دراصل بہت سے ناگزیر نتائج ہم کو اس عقیدہ تک پہنچاتے ہیں، بے شمار علمی حقیقتیں ہم کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader