کائنات بول رہی ہے
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
مجبور کرتی ہیں کہ ہم کائنات کے پیچھے ایک ذہن کی کارفرمائی تسلیم کریں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ریڈیو کی آواز ہم کو یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم کچھ لہروں کی موجودگی تسلیم کریں، حالانکہ ہم ان لہروں کو بالکل نہیں دیکھتے۔ گلاس میں شکر ڈالیں تو تھوڑی دیر میں وہ اس طرح گھل مل جائے گی کہ آنکھوں کو دکھائی نہیں دے گی۔ مگر زبان سے چک کر آپ پانی میں شکر کی موجودگی کو معلوم کر سکتے ہیں۔ اسی طرح خدا آنکھوں کو نظر نہیں آتا مگر جب ہم اپنے گرد و پیش کی دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا وجدان (intuition) پکار اٹھتا ہے کہ بے شک یہاں ایک خدا ہے، اس کے بغیر موجودہ کائنات وجود میں نہیں آسکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کے اضافے نے انسان کو خدا سے دور نہیں کیا بلکہ اور اس کے قریب کیا ہے۔ خدا کے وجود پر شک کرنا محض اپنی جہالت کا اعلان کرنا ہے۔ پاسچر کا قول کس قدر صحیح ہے جس کو مصنف نے کتاب کے صفحہ اول پر درج کیا ہے: A smattering of science turns people away from God—Much of it brings them back to Him. معمولی علم آدمی کو خدا سے دور کرتا ہے، زیادہ علم اس کو خدا سے قریب کرنے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader