حادثہ، توجیہہ کے لیے کافی نہیں
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
حادثہ ، توجیہہ کے لیے کافی نہیں Predictable Universe اپنی کتاب ”مذہب اور جدید چیلنج (God Arises) میں نے 1964 میں لکھی تھی۔ اس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ یہ کائنات بے حد بامعنی کائنات ہے۔ ایسی بامعنی کائنات کسی بنانے والے کے بغیر نہیں بن سکتی۔ اس میں جو باتیں درج تھیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی — 11 اگست 1999ء میں ایک سورج گرہن واقع ہوگا جو کارنوال (Cornwall) میں مکمل طور پر دیکھا جاسکے گا: On August 11, 1999, there will be a Solar eclipse that will be completely visible at Cornwall". (p. 99) میں نے یہ بات 11 اگست 1999 سے 35 سال پہلے لکھی تھی۔ اس تحریر کے 35 سال بعد جب 11 اگست 1999 کی تاریخ آئی تو اس پیشگی بیان کے عین مطابق ٹھیک مقررہ وقت پر سورج گرہن ہوا۔ اِس کے واقع ہونے میں ایک منٹ کا بھی فرق نہیں ہوا۔ میں نے یہ بات بطور خود نہیں لکھی تھی، بلکہ وہ علمائے فلکیات کے حسابات (calculations) کی بنیاد پر لکھی تھی۔ علمائے فلکیات پیشگی طور پر اتنا صحیح اندازہ کرنے میں اس لیے کامیاب ہوئے کہ کائنات انتہائی محکم قوانین پر چل رہی ہے۔ کروڑوں سال گزرنے پر بھی اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوتا۔ اِسی دریافت کی بنا پر ایک سائنس داں (سر جیمس جینز) نے اپنی کتاب ”مسٹیر لیس یونیورس‘‘ میں لکھا ہے: کائنات کے مطالعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بنانے والا ایک ریاضیاتی دماغ (Mathematical Mind) ہے۔ کسی چیز کے بامعنی ہونے کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ قابل پیشین گوئی (predictable) ہو۔ یہ صفت موجودہ کائنات میں مکمل طور پر موجود ہے۔ جس کا ایک ثبوت اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader