Urdu book · خدا کی دریافت

حادثہ، توجیہہ کے لیے کافی نہیں

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ خدا کے وجود کا انکار کرتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ موجودہ کائنات ایک اتفاقی حادثہ (accident) کے طور پر وجود میں آئی ہے، نہ کہ کسی خالق کے ارادے کے تحت۔ یہ جملہ گریمیر کے اعتبار سے درست ہے۔ مگر حقیقتِ واقعہ کے اعتبار سے وہ درست نہیں۔ اگر یہ مانا جائے کہ موجودہ با معنی کائنات ایک حادثے کے طور پر ظہور میں آئی ہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ بے شعور حادثہ بھی ایک ایسا عامل ہے، جو با معنی چیز کو وجود میں لا سکتا ہے۔ ایسی حالت میں حادثے کو لازمی طور پر قابلِ تکرار (repeatable) ہونا چاہیے۔ اُس کو بار بار وقوع میں آنا چاہیے۔ جس طرح بے شعور حادثے نے ایک بار ایک با معنی کائنات بنائی، اسی طرح دوبارہ ایسا ہونا چاہیے کہ حادثات کے ذریعے کوئی با معنی چیز وجود میں آ جائے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، دوبارہ کبھی ایسا نہیں ہوا۔ سائنسی اندازے کے مطابق، موجودہ کائنات کی عمر تقریباً 13.8 بلین سال ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس لمبے عرصے میں کوئی با معنی کائنات استثنائی طور پر صرف ایک بار وجود میں آئی، اس کے بعد کبھی نہیں، حتی کہ جُزئی طور پر بھی نہیں۔ مثلاً ایسا نہیں ہوا کہ دوبارہ کوئی نیا شمسی نظام بن جائے، دوبارہ کسی سیارے پر پانی اور ہوا اور سبزہ جیسی چیزیں وجود میں آجائیں، دوبارہ کوئی ایسی زمین بن جائے جہاں انسان اور حیوان پیدا ہو کر چلنے پھرنے لگیں۔ یہ استثنا واضح طور پر ارادی تخلیق کا ثبوت ہے۔ تمام انسانی علوم کے مطابق، موجودہ دنیا کامل طور پر ایک استثنائی واقعہ ہے۔ وہ تاریخ موجودات میں ایک نادر استثنا ہے۔ کائنات کا استثنا ہونا منکرینِ خدا کے مذکورہ نظریے کی یقینی تردید ہے۔ کائنات اگر صرف ایک حادثے کا ظہور ہوتی تو یقینی طور پر وہ قابلِ تکرار ہوتی، اور جب وہ قابلِ تکرار نہیں تو حادثے کی اصطلاح میں اس کی توجیہ کرنا بھی سراسر بے بنیاد ہے۔ ایسی توجیہ علمی طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page