Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کا وجود

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ کسی انسان کے لیے خود اُس کا وجود۔ کوئی شخص اگر اپنے وجود کو مانتا ہے تو ٹھیک اسی دلیل سے اُس خدا کے وجود کو بھی ماننا پڑے گا۔ اپنے وجود کو ماننا اور خدا کے وجود کو نہ ماننا ایک فکری تضاد ہے۔ کوئی بھی سنجیدہ آدمی اس فکری تضاد کا تحمل نہیں کر سکتا۔ سترہویں صدی کے مشہور فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (René Descartes, 1650-1596) نے کہا تھا ”میں سوچتا ہوں ، اس لیے میں ہوں :“ “I think, therefore I exist.” یہ اصول بلا شبہ ایک محکم اصول ہے۔ اس اصول کے مطابق، خود شناسی (self realization) آدمی کو خداشناسی (God realization) تک پہنچاتی ہے۔ اس اصول کے مطابق ، یہ کہنا درست ہوگا کہ ” میرا وجود ہے ، اس لیے خدا کا وجود بھی ہے :“ “I exist, therefore God exists.” کائنات کا قابلِ تکرار نہ ہونا واضح طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کائنات کو ایک باشعور وجود نے اپنے ارادے کے تحت بنایا ہے۔ اس طرح پوری کائنات میں زمین ایک نادر استثنا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم جو زمین پر موجود ہے وہ وسیع کائنات میں کہیں بھی موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پہلا انسان چاند پر گیا، اور وہاں یہ دیکھا کہ چاند ایک خشک چٹان کے سوا اور کچھ نہیں تو اس کا یہ حال ہوا کہ جب وہ دوبارہ زمین پر اُترا تو وہ جذباتی ہیجان کے تحت زمین کے اوپر سجدے میں گر پڑا۔ کیوں کہ اُس نے زمین جیسی کوئی موافق حیات (pro-life) چیز، خلا (space) میں کہیں اور نہیں دیکھی۔ خدا ایک ثابت شدہ وجود ہے، خدا کو ماننا ایک ثابت شدہ چیز کو ماننا ہے، اور خدا کا انکار کرنا ایک ثابت شدہ چیز کا انکار کرنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page