Urdu book · خدا کی دریافت

سائنس اور الہیات

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

مطابق، ایٹم کا وجود ہی نہ رہے گا۔ جب نیوکلیس نہ ہوگا تو ایٹم بھی نہ ہوگا، اور جب ایٹم نہ ہوگا تو کیمسٹری بھی نہیں ہوگی، اور جب کیمسٹری نہیں ہوگی تو زندگی بھی نہیں ہوگی۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ سائنس ناقابل حل سوالات سے دوچار ہے۔ مثلاً طبیعیات کے موجودہ قوانین کہاں سے آئے، وہ اپنی موجودہ محکم حالت میں کیوں قائم ہیں، وغیرہ۔ روایتی طور پر سائنس داں یہ فرض کر رہے تھے کہ یہ قوانین، کائنات کا لازمی حصہ ہیں۔ قوانینِ طبیعی کی حقیقت کی کھوج کرنا، سائنس کا موضوع نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب یہ سوالات سائنس دانوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ کیمبرج کے سائنس داں مارٹن ریس (Martin John Rees, b. 1942 ) جو کہ ”رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی“ کے صدر رہ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ طبیعیات کے قوانین، مطلق اور آفاقی نہیں ہیں، وہ ایک بڑے کائناتی نظام کے متفرق حصے ہیں۔ ہر حصے کے اپنے ضوابط ہیں۔ وہ اس نظام کو متعدد کائناتی نظام (the multiverse system) کہتے ہیں۔ ان تحقیقات کے مطابق، ہماری کائنات ایک ایسی کائنات ہے، جو موافق حیات قوانین (bio-friendly laws) کی حامل ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ کائنات کو ہم اس طرح پاتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہاں انسان کا قیام ناممکن ہو جاتا۔ یہ محکم قوانین جو کائنات کو نہایت منظم طور پر کنٹرول کر رہے ہیں، وہ کہاں سے آئے۔ تمام مشکلات کا سبب، جدید مفکرین کے نزدیک، یہ ہے کہ مذہب اور جدید سائنس، دونوں کائنات کا جو تصور دے رہے ہیں، وہ کائنات کے علاوہ ایک ایسی ایجنسی کا تقاضا کرتے ہیں، جو کائنات کے باہر سے کائنات کا نظم کر رہی ہو۔ تاہم کائنات کی توجیہہ کے لیے ایک ایسے ڈیزائنر کو ماننا جو کائنات سے پہلے موجود ہو، وہ اس مسئلے کی کوئی توجیہہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page