خدا کی دریافت
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بار ہم نے انٹرنیٹ پر یہ تلاش کیا کہ بڑے بڑے لوگوں میں وہ کون ہیں، جو اپنی آخری عمر میں مایوسی کا شکار ہوئے اور ڈپریشن (depression) کی حالت میں مرے۔ اس کے جواب میں انٹرنیٹ نے جو فہرست دی، اس میں چار سو دو بڑے بڑے اشخاص کے نام موجود تھے۔ اس کا عنوان یہ ہے: Risk Factor Depression کائنات کے باخدا نظریے میں انسان کے اس فطری سوال کا جواب موجود ہے، لیکن کائنات کے بے خدانظریے میں اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں۔ زوجین کا اصول کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز جوڑا جوڑا پیدا کی گئی ہے— منفی برقی ذرّے کا جوڑا مثبت برقی ذرّہ، درخت کے پھولوں میں نر اور مادہ، حیوانات میں مذکر اور مؤنث۔ انسان میں عورت اور مرد، وغیرہ۔ یہ ایک کائناتی قانون ہے کہ یہاں ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنی تکمیل کرتی ہے۔ اس لحاظ سے انسانی زندگی کا بھی ایک جوڑا ہونا چاہیے، یعنی موت سے پہلے کی نامکمل زندگی کے ساتھ موت کے بعد کی کامل زندگی۔ باخدا کائنات کے نظریے میں اُس کا یہ تکمیلی جوڑا موجود ہے، لیکن بے خدا کائنات کے نظریے میں اُس کا یہ تکمیلی جوڑ موجود نہیں۔ آڈیئل ازم کی ناکامی تمام فلاسفہ اور مفکرین موجودہ دنیا کو ابدی (eternal) سمجھتے رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اسی موجودہ عالم میں ہم کبھی نہ کبھی اپنی مطلوب دنیا بنا لیں گے۔ آڈیئل سوسائٹی، آڈیئل ریاست، آڈیئل نظام کے تصورات اسی فکر کے تحت پیدا ہوئے۔ ایسے تمام مفکرین ان تصورات سے اپنی آخری عمر تک مسحور رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader