خدا کی دریافت
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں کے نزدیک تہذیب (civilization) اِس انسانی خواب کی تعبیر تھی۔ موجودہ صنعتی ترقیوں کے بعد لوگوں نے یہ سمجھا کہ تہذیبی ارتقا آخرکار اُنھیں اِس منزل تک پہنچانے والا ہے، جبکہ اسی موجودہ دنیا میں وہ اپنی جنت تعمیر کر لیں۔ لیکن یہ تصور مکمل طور پر باطل ثابت ہوا۔ دنیا کا خاتمہ جدید سائنس کے بانی سر آئزک نیوٹن (وفات 1727) نے 1704 میں قوانینِ طبیعی کا مطالعہ کرکے بتایا تھا کہ موجودہ دنیا 2060 میں ختم ہو جائے گی (ٹائمز آف انڈیا، 18 جون 2007)۔ اب دنیا بھر کے تمام سائنس داں خالص مشاہدات کی بنیاد پر یہ بتا رہے ہیں کہ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں دنیا کا خاتمہ یقینی بن چکا ہے۔ تہذیب کا مزید ارتقا اب سرے سے یہاں ممکن ہی نہیں۔ الون ٹافلر (Alvin Toffler) کی کتاب 'فیوچر شاک‘ پہلی بار 1970 میں چھپی۔ اس کتاب میں الون ٹافلر نے بتایا تھا کہ دنیا انڈسٹریل ایج سے نکل کر اب سپرانڈسٹریل ایج میں داخل ہو رہی ہے۔ تہذیب کا اگلا دَور مکمل آٹومیشن (complete automation) کا دَور ہوگا۔ پش بٹن کلچر (push button culture) اِس حد تک ترقی کرے گا کہ ہر کام آٹومیٹک طور پر ہونے لگے گا۔ لیکن گلوبل وارمنگ کا مسئلہ تکمیل تاریخ کے بجائے خاتمہ تاریخ (end of history) کا پیغام لے کر سامنے آ گیا۔ تاریخ انسانی کا یہ ظاہر ہ بلا شبہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے۔ اِس سوال کی اطمینان بخش توجیہ صرف باخدا کائنات کے نظریے میں موجود ہے۔ بے خدا کائنات کے نظریے کے تحت، اِس ظاہر ے کی کوئی اطمینان بخش توجیہ کرنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس طرح کی مثالیں واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ بے خدا کائنات کے نظریے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader