گلیلیو گلیلی
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ فلاسفہ خدا کی تلاش میں تو سرگرداں رہے، لیکن وہ کبھی یقین کے درجے میں خدا کی دریافت تک نہ پہنچ سکے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ان کا طریقہ غیر عملی تھا۔ فلسفیانہ طریقے پر خدا تک پہنچنے والے تمام اہل علم خدا کی تلاش کے لیے صحیح میتھڈ ( right method ) دریافت نہ کر سکے۔ یہ تمام لوگ خدا کو براہ راست دیکھنا چاہتے تھے، حالاں کہ خدا کی معرفت صرف بالواسطہ انداز میں ممکن تھی۔ ہر ایک نے یہ چاہا کہ وہ خدا کو براہ راست طور پر دریافت کریں، جیسے وہ عالم خلق کی دوسری چیزوں کو دریافت کرتے ہیں۔ لیکن یہ طریقہ خالق (خدا) کے معاملے میں قابل عمل نہ تھا۔ اس لیے وہ کامیاب بھی نہیں ہوا۔ سیکولر فلاسفہ اور مذہبی متکلمین دونوں کا کیس اس معاملے میں ایک ہی ہے۔ اس معاملے کا صحیح طریقہ کار کیا ہے۔ اس کی رہنمائی تاریخ میں پہلی بار اسرائیلی پیغمبر حضرت موسیٰ کے قصے میں ملتی ہے۔ پیغمبر موسیٰ ساڑھے تین ہزار سال پہلے قدیم مصر میں پیدا ہوئے ۔ ان کا قصہ تفصیل کے ساتھ قرآن میں آیا ہے۔ ان کے ساتھ یہ واقعہ کوہ طور پر پیش آیا، جو صحرائے سینا میں 2285 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس واقعے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان خدا کو براہ راست نہیں دیکھ سکتا۔ خدا کے وجود کا علم انسان کو صرف بالواسطہ طور پر حاصل ہوتا ہے، یعنی تخلیق (creation) پر غور کر کے خالق (Creator) کے علم تک پہنچنا ۔ پیغمبر موسیٰ کے تجربے کی صورت میں یہ رہنمائی تاریخ میں ساڑھے تین ہزار سال سے موجود تھی، لیکن اہل علم کبھی اس طریقہ کار (methodology) کو اختیار نہ کر سکے۔ وہ بدستور اس کوشش میں لگے رہے کہ وہ خالق کو براہ راست دریافت کر سکیں۔ حدیث کی کتابوں میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّيْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر (3062) ۔ یعنی بے شک اللہ ضرور ہی اس دین کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader