اللہ کی رؤیت
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ کی رویت حدیث کی کتابوں میں ایک روایت آئی ہے، جو حدیث جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ اس حدیث کا ایک جزء یہ ہے: اَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ، فَاِنَّ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ اس حدیث میں عبادت کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ حدیث پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے لیے اگرچہ براہ راست اللہ کی رویت (دیدار) ممکن نہیں، لیکن انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ شبہ رویت کے درجے میں اللہ کو پا سکے۔ رویت اور شبہ رویت کے درمیان اگرچہ ظاہر کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ کسی آدمی کو اللہ کی شبہ رویت کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ اس کا طریقہ ہے اللہ کی تخلیق میں غور و فکر کرنا۔ اللہ اپنی ذات کے اعتبار سے اگرچہ ہمارے سامنے ظاہر نہیں ہے۔ لیکن اپنی صفات کے اعتبار سے وہ اپنی تخلیقات میں پوری طرح نمایاں ہے۔ تخلیق گویا خالق کی معرفت کا آئینہ ہے۔ جس نے تخلیق کو دیکھا، اس نے گویا خالق کو دیکھ لیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کسی نے آرٹ کو دیکھا تو اس نے گویا آرٹسٹ کو دیکھ لیا۔ موجودہ زمانے میں اہل سائنس نے یہ دریافت کیا ہے کہ کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ یہ دریافت اپنے آپ میں بتاتی ہے کہ کائنات میں ذہن کی کارفرمائی ہے۔ ایسا ہے تو یقینی طور پر یہاں کوئی صاحب ذہن موجود ہے۔ ذہن کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader