استدلال کی بنیاد
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سائنسی دریافت نے قدیم نیوٹنین میکینکس کو علمی طور پر قابلِ رد قرار دے دیا۔ اب علم کا دریا عالم کبیر (macro world) سے گزر کر عالمِ صغیر (micro world) تک پہنچ گیا، یعنی دکھائی دینے والی چیزوں کے علاوہ نہ دکھائی دینے والی چیزیں بھی علم کا موضوع بن گئیں۔ یہ ایک دور رس فکری انقلاب تھا جو بیسویں صدی کے نصف اول میں پیش آیا۔ اس کے نتیجے میں جو نظریاتی تبدیلیاں ہوئیں، ان میں سے ایک اہم تبدیلی یہ تھی کہ استدلال کا اصول (principle of reason) بدل گیا۔ اس فکری انقلاب سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ جائز استدلال (valid argument) وہی ہے، جو براہ راست استدلال (direct argument) ہو، یعنی مشاہدہ اور تجربہ پر مبنی استدلال۔ مگر اب استنباطی استدلال (inferential argument) بھی یکساں طور پر جائز استدلال بن گیا۔ جب جوہری ذرات (subatomic particles) ناقابلِ مشاہدہ ہونے کے باوجود صرف استنباطی استدلال کی بنیاد پر ایک سائنسی واقعہ تسلیم کر لیے گئے تو لازمی طور پر اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ استنباطی استدلال کی بنیاد پر خدا کا استدلال بھی عین اسی طرح جائز سائنسی استدلال ہے۔ علمائے الہیات خدا کے وجود پر ایک دلیل وہ دیتے تھے، جس کو ڈزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے۔ یعنی جب ڈزائن ہے تو ضروری ہے کہ اس کا ایک ڈزائینر ہو۔ اس استدلال کو پہلے ثانوی استدلال (secondary rationalism) مانا جاتا ہے۔ مگر اب جدید سائنسی انقلاب کے بعد یہ استدلال بھی اسی طرح ابتدائی استدلال (primary rationalism) کی فہرست میں آچکا ہے، جیسا کہ دوسرے معروف سائنسی استدلالات۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader