ڈارونزم کا نظریہ
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈارونزم کا نظریہ انھیں فکری مغالطوں میں سے ایک مغالطہ وہ ہے جس کو ڈارونزم (Darwinism) کہا جاتا ہے۔ اس فکر کو موجودہ زمانے میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اس نظریے کے بارے میں بے شمار کتابیں لکھیں گئیں ہیں، اور تمام یونیورسٹیوں میں اس کو باقاعدہ نصاب میں داخل کیا گیا ہے۔ لیکن اس کا سائنٹفک تجزیہ کیجئے تو وہ ایک خوب صورت مغالطے کے سوا اور کچھ نہیں۔ ڈارونزم کے نظریے کو دوسرے لفظوں میں عضویاتی ارتقا (organic evolution) کہا جاتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بہت پہلے زندگی ایک سادہ زندگی سے شروع ہوئی۔ پھر توالد و تناسل کے ذریعے وہ بڑھتی رہی۔ حالات کے اثر سے اس میں مسلسل تغیر ہوتا رہا۔ یہ تغیرات مسلسل ارتقائی سفر کرتے رہے۔ اس طرح ایک ابتدائی نوع مختلف انواع (species) میں تبدیل ہوتی چلی گئی۔ اس لمبے عمل کے دوران ایک مادی قانون اس کی رہنمائی کرتا رہا۔ یہ مادی قانون ڈارون کے الفاظ میں نیچرل سلکشن تھا۔ اس نظریے میں بنیادی خامی یہ ہے کہ وہ دو مشابہ نوع کا حوالہ دیتا ہے، اور پھر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لمبے حیاتاتی ارتقا کے ذریعے ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہوگئی۔ مثلاً بکری دھیرے دھیرے زرافہ بن گئی، وغیرہ۔ یہ نظریہ بکری اور زرافہ کو تو ہمیں دکھاتا ہے، لیکن وہ درمیانی انواع اس کی فہرست میں موجود نہیں ہیں، جو تبدیلی کے سفر کو عملی طور پر ثابت کریں۔ نظریۂ ارتقا کے وکیل ان درمیانی کڑیوں کو مسنگ لنک (missing link) کہتے ہیں۔ لیکن یہ مسنگ لنک صرف ایک قیاسی لنک ہے۔ مشاہدہ اور تجربہ کے اعتبار سے سرے سے ان کا کوئی وجود نہیں۔ اس نظریے کی مقبولیت کا راز صرف یہ تھا کہ وہ سیکولر اہل علم کو ایک کام چلاؤ نظریہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader