گلیلیو گلیلی
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔ اس حدیث میں الرجل الفاجر سے مراد سیکولر انسان ہے۔ اس طرح حدیث میں مستند طور پر یہ سراغ (clue) موجود تھا کہ اس معاملے میں ایک سیکولر انسان ہو گا جو ابتدائی رہنمائی فراہم کرے گا لیکن فلسفہ اور مسلم متکلمین دونوں اس معاملے میں صحیح رہنمائی تک نہ پہنچ سکے۔ راقم الحروف لمبی مدت تک اس موضوع پر غور کرتا رہا ہے، اور آخر کار اس دریافت تک پہنچا کہ صحیح البخاری میں جس الرجل الفاجر (سیکولر انسان) کا ذکر ہے، غالباً ان میں ایک اٹلی کا سائنسدان گلیلیو گلیلی (Galileo Galilei) ہے، جو چار سوسال پہلے پیدا ہوا۔ اس معاملے میں گلیلیو کا رول چونکہ براہ راست نہیں تھا، بلکہ بالواسطہ تھا۔ یعنی اس کی دریافت سے بالواسطہ طور پر اس سوال کا جواب مل رہا تھا کہ خدا کی معرفت تک پہنچنے کا طریق کار (method) کیا ہے۔ گلیلیو گلیلی کے زمانے میں ایک واقعہ ہوا، جس کو نیوٹن کے ایپل شاک (apple shock) کی طرح ٹیلی شاک (tele-shock) کہا جا سکتا ہے، یعنی دوربین کی دریافت۔ آئن سٹائن نے لکھا ہے کہ گلیلیو جدید سائنس کا بانی تھا: Galileo was the "father of modern science." یہ ایک حقیقت ہے کہ گلیلیو سے سائنس میں نئے دور کا آغاز ہوا ہے لیکن اس دور کے آغاز کا اصل سبب یہ تھا کہ اس زمانے میں دوربین (telescope) کو 1608 میں ابتدائی طور پر ہالینڈ میں ایجاد کر لیا گیا تھا۔ اس کے بعد 1609 میں گلیلیو نے اس دوربین کا ترقی یافتہ ورژن (developed version) خود سے تیار کیا، اور پہلی بار دوربین کو استعمال کر کے شمسی نظام (solar system) کا جزئی مشاہدہ کیا۔ اس مطالعے کے ذریعے گلیلیو نے پہلی بار یہ دریافت کیا کہ ارسطو کا قدیم نظریہ غلط تھا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader