Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

(workable theory) دکھائی دیا۔ لیکن کوئی نظریہ اس طرح کے قیاس سے ثابت نہیں ہوتا۔ کسی نظریے کو ثابت شدہ نظریہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی پشت پر معلوم حقائق موجود ہوں جو اس کی تصدیق کرتے ہوں، لیکن ڈارونزم کی تائید کے لیے ایسے حقائق موجود نہیں۔ مثال کے طور پر، ڈارونزم کے مطابق، حیاتیاتی ارتقا کے لیے بہت زیادہ لمبی مدت درکار ہے۔ سائنسی دریافت کے مطابق موجودہ زمین کی عمر اس کے مقابلے میں بہت زیادہ کم ہے۔ ایسی حالت میں بالفرض اگر ارتقاھیات کا ڈرامہ ڈاروینی نظریہ کے مطابق آیا ہو تو وہ موجودہ محدود زمین کے اوپر کبھی واقع نہیں ہوسکتا۔ زمین کی محدود عمر کے بارے میں جب سائنس کی دریافت سامنے آئی تو اس کے بعد ارتقا کے وکیلوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ زندگی باہر کسی اور سیارہ پر پیدا ہوئی، پھر وہاں سے سفر کرکے زمین پر آئی۔ اس ارتقائی نظریے کو انھوں نے مفروضہ طور پر پیس پرمیا (Panspermia) کا نام دیا۔ اب دوربینوں اور خلائی سفروں کے ذریعے خلا میں کچھ مفروضہ سیاروں کی دریافت شروع ہوئی۔ مگر بے شمار کوششوں کے باوجود اب تک یہ مفروضہ سیارہ دریافت نہ ہوسکا۔ ہیومنزم کا نظریہ اسی قسم کا فکری مغالطہ وہ ہے، جس کو ہیومنزم (Humanism) کہا جاتا ہے۔ یعنی مبنی بر انسان توجیہ کائنات (human-based explanation of universe)_ اس فلسفے کے تحت خدا کے عقیدے کو حذف کرکے صرف انسان کی بنیاد پر زندگی کی توجیہ کی جاتی ہے۔ اس نظریے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے_ خدا سے انسان کو سیٹ کا منتقل ہونا: Transfer of seat from God to man. اس نظریے کی حمایت میں بیسویں صدی عیسوی میں بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔ انھیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page