خدا کی دریافت
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
میں سے ایک کتاب وہ ہے، جو انگریز فلسفی جولین ہکسلے (وفات 1975) نے 1941 میں تیار کر کے شائع کی۔ کتاب کے موضوع کے مطابق، اس کا ٹائٹل یہ تھا: Man Stands Alone. یہ کتاب پوری کی پوری صرف دعویٰ اور قیاس پر مبنی ہے۔ اس میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ مثلاً اس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب انسان کو وحی کی ضرورت نہیں، اب انسان کی رہنمائی کے لیے عقل بالکل کافی ہے۔ مگر اس دعویٰ کی تائید میں کتاب کے اندر کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ امریکی سائنس داں کریسی ماریسن (وفات 1951) نے 1944 میں خالص علمی انداز میں اس کتاب کا جواب دیا۔ یہ کتاب جولین ہکسلے کے دعویٰ کو بالکل بے بنیاد ثابت کرتی ہے: Man Does not Stand Alone. خاتمہ ہسٹری آف تھاٹ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ افکار کے اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور ہیں—قبل سائنس دور (pre-scientific era)، اور بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور میں لوگوں کو اشیا کی حقیقت معلوم نہ تھی، اس لیے محض قیاس آرائی کے تحت چیزوں کے بارے میں رائے قائم کر لی گئی۔ اس لیے قبل سائنس دور کو توہماتی دور (age of superstition) کہا جاتا ہے۔ مذکورہ اعتراض دراصل اسی قدیم دور کی ایک یادگار ہے۔ یہ اعتراض دراصل توہماتی افکار کی کنڈیشنگ کے تحت پیدا ہوا، جو روایتی طور پر اب تک چلا جا رہا ہے۔ قدیم توہماتی دور میں بہت سے ایسے خیالات رائج ہو گئے، جو حقیقت کے اعتبار سے بے بنیاد تھے۔ سائنسی دور آنے کے بعد ان خیالات کا خاتمہ ہو چکا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader