کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
بہ ظاہر ہم زمین کے اوپر ہیں مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ہم اس کے نیچے سر کے بل لٹکے ہوئے ہیں۔ زمین گویا فضا میں معلق ایک گیند ہے، جس کے چاروں طرف انسان بستے ہیں۔ کوئی شخص ہندوستان کی زمین پر کھڑا ہو تو امریکہ کے لوگ بالکل اس کے نیچے ہوں گے، اور امریکہ میں کھڑا ہو تو ہندوستان اس کے نیچے ہوگا۔ پھر زمین ٹھہری ہوئی نہیں ہے، بلکہ ایک ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے مسلسل گھوم رہی ہے۔ ایسی حالت میں زمین کی سطح پر ہمارا انجام وہی ہونا چاہیے جیسے سائیکل کے پہیے پر کنکریاں رکھ کر پہیے کو تیزی سے گھما دیا جائے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایک خاص تناسب سے زمین کی کشش اور ہوا کا دباؤ ہم کو ٹھہرائے ہوئے ہے۔ زمین کے اندر غیر معمولی قوتِ کشش ہے، جس کی وجہ سے وہ تمام چیزوں کو اپنی طرف کھنچ رہی ہے، اور اوپر سے ہوا کا مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ اس دو طرفہ عمل نے ہم کو زمین کے گولے پر چاروں طرف لٹکا رکھا ہے۔ ہوا کے ذریعے جو دباؤ پڑتا ہے، وہ جسم کے ہر ایک مربع انچ پر تقریباً ساڑھے سات سیر تک معلوم کیا گیا ہے۔ یعنی ایک اوسط آدمی کے سارے جسم پر تقریباً 280 من کا دباؤ۔ آدمی اس وزن کو محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ ہوا جسم کے چاروں طرف ہے۔ دباؤ ہر طرف سے پڑتا ہے اسی لیے آدمی کو محسوس نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پانی میں غوطہ لگانے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہوا جو مختلف گیسوں کے مخصوص مرکب کا نام ہے، اس کے بے شمار دیگر فائدے ہیں، جن کا بیان کسی کتاب میں ممکن نہیں۔ نیوٹن اپنے مشاہدے اور مطالعے سے اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ تمام اجسام ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ مگر اجسام کیوں ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔ اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ میں اس کی کوئی توجیہ پیش نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader