خدا کی دریافت
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
اس نظریے کو علم کی زبان میں ہیلیوسینٹرک تھیری (heliocentric theory) کہا جاتا ہے۔ جب کہ اس سے پہلے دنیا میں جیو سینٹرک تھیری (geocentric theory) کا رواج تھا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس طرح نیوٹن کی کشش ثقل کا نظریہ ایپِل شاک کے واقعے کے بعد دریافت ہوا، اسی طرح گلیلیو کی دریافت کا آغاز ”ٹیلی شاک“ کے بعد پیش آیا۔ یہی واقعہ جدید سائنس (modern science) کے آغاز کا سبب بنا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوربین کی ایجاد سے نئے سائنسی دور کا آغاز ہوا، اور اس امکان کو پہلی بار جس نے استعمال کیا، وہ اٹلی کا سائنس داں گلیلیو گلیلی تھا۔ الیکس کیرل کا تبصرہ گلیلیو کو جدید سائنس کا بانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ گلیلیو نے ایک چیز کو دوسری چیز سے ڈی لنک (delink) کردیا۔ اس تعلق سے ڈاکٹر الیکس کیرل (1873-1944) لکھتے ہیں—گلیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو ابعاد اور وزن پر مشتمل ہیں، اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جاسکتی ہے، ان ثانوی صفات سے الگ کردیا، جو شکل، رنگ اور بو وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں، اور جن کی پیمائش نہیں کی جاسکتی۔ کمیت کو کیفیت سے جدا کردیا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader