کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
وائٹ ہیڈ (Alfred North Whitehead, 1861-1947) اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے:”نیوٹن نے یہ کہہ کر ایک عظیم فلسفیانہ حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ فطرت اگر بے روح فطرت ہے تو وہ ہم کو توجیہہ نہیں دے سکتی۔ ویسے ہی جیسے مردہ آدمی کوئی واقعہ نہیں بتا سکتا۔ تمام عقلی اور منطقی توجیہات آخری طور پر ایک مقصدیت کا اظہار ہیں۔ جب کہ مردہ کائنات میں کسی مقصدیت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔“ The Age of Analysis, p. 85 وائٹ ہیڈ کے الفاظ کو آگے بڑھاتے ہوئے میں کہوں گا کہ کائنات اگر کسی صاحب شعور کے زیر انتظام نہیں ہے تو اس کے اندر اتنی معنویت کیوں پائی جاتی ہے۔ زمین اپنے محور پر چو بیس گھنٹے میں ایک چکر پورا کر لیتی ہے۔ یا یوں کہیے کہ وہ اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔ فرض کرو اس کی رفتار دو سو میل فی گھنٹہ ہو جائے ، اور یہ بالکل ممکن ہے، ایسی صورت میں ہمارے دن اور ہماری راتیں موجودہ دن اور رات کی نسبت سے دس گنا زیادہ لمبے ہو جائیں گے۔ گرمیوں کا سخت سورج ہر دن تمام نباتات کو جلا دے گا، اور جو بچے گا وہ لمبی رات کی ٹھنڈک میں پالے (frost) کی نذر ہو جائے گا۔ سورج جو اس وقت ہمارے لیے زندگی کا سر چشمہ ہے، اس کی سطح پر بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ کا ٹمپریچر ہے، اور زمین سے اس کا فاصلہ تقریباً نو کروڑ تیس لاکھ میل ہے، اور یہ فاصلہ حیرت انگیز طور پر مسلسل قائم ہے۔ یہ واقعہ ہمارے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ اگر یہ فاصلہ گھٹ جائے، مثلاً سورج نصف کے قدر قریب آ جائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ اس گرمی سے کاغذ جلنے لگے، اور اگر موجودہ فاصلہ دگنا ہو جائے تو اتنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader