کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹھنڈک پیدا ہو کہ زندگی باقی نہ رہے۔ یہی صورت اس وقت پیدا ہوگی، جب موجودہ سورج کی جگہ کوئی دوسرا غیر معمولی ستارہ آ جائے۔ مثلاً ایک بہت بڑا ستارہ ہے، جس کی گرمی ہمارے سورج سے دس ہزار گنا زیادہ ہے۔ اگر وہ سورج کی جگہ ہوتا تو زمین کو آگ کی بھٹی بنا دیتا۔ زمین 23 درجے کا زاویہ بناتی ہوئی فضا میں جھکی ہوئی ہے۔ یہ جھکاؤ ہمیں ہمارے موسم دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں زمین کا زیادہ سے زیادہ حصہ آباد کاری کے قابل ہو گیا ہے، اور مختلف قسم کی نباتات اور پیدا اور حاصل ہوتی ہیں۔ اگر زمین اس طرح سے جھکی ہوئی نہ ہوتی تو قطبین (North Pole & South Pole) پر ہمیشہ اندھیرا چھایا رہتا۔ سمندر کے بخارات شمال اور جنوب کی جانب سفر کرتے، اور زمین پر یا برف کے ڈھیر ہوتے یا صحرائی میدان۔ اس طرح کے اور بہت سے اثرات ہوتے جس کے نتیجے میں بغیر جھکی ہوئی زمین پر زندگی ناممکن ہو جاتی۔ یہ کس قدر نا قابل قیاس بات ہے کہ مادہ نے خود کو اپنے آپ اس قدر موزوں اور مناسب شکل میں منظم کر لیا۔ اگر سائنسدانوں کا قیاس صحیح ہے کہ زمین سورج سے ٹوٹ کر نکلی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابتداءً زمین کا درجہ حرارت وہی رہا ہوگا جو سورج کا ہے، یعنی بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ۔ اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی۔ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا ملنا اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک زمین کا درجہ حرارت گھٹ کر چار ہزار ڈگری پر نہ آجائے۔ اسی موقع پر دونوں گیسوں کے باہم ملنے سے پانی بنا۔ اس کے بعد کروڑوں سال تک زمین کی سطح اور اس کی فضا میں زبردست انقلابات ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ غالباً ایک بلین سال پہلے زمین اپنی موجودہ شکل میں تیار ہوئی۔ زمین کی فضا میں جو گیسیں تھیں ان کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader