کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بڑا حصہ خلا میں چلا گیا، ایک حصے نے پانی کے مرکب کی صورت اختیار کی، ایک حصہ زمین کی تمام چیزوں میں جذب ہوگیا، اور ایک حصہ ہوا کی شکل میں ہماری فضا میں باقی رہ گیا جس کا بیشتر حصہ آکسیجن اور نائٹروجن ہے۔ یہ ہوا اپنی کثافت کے اعتبار سے زمین کا تقریباً دس لاکھوں حصہ ہے۔ کیوں نہیں ایسا ہوا کہ تمام گیسیں جذب ہوجاتیں ، یا کیوں ایسا نہیں ہوا کہ موجودہ نسبت سے ہوا کی مقدار زیادہ ہوتی۔ دونوں صورتوں میں انسان زندہ نہیں ہوسکتا تھا، یا اگر بڑھی ہوئی گیسوں کے ہزاروں پونڈ فی مربع انچ بوجھ کے نیچے زندگی پیدا بھی ہوتی تو یہ ممکن تھا کہ وہ انسان کی شکل میں نشوونما پاسکے۔ زمین کی دوہری پرت اگر صرف دس فٹ موٹی ہوتی تو ہماری فضا میں آکسیجن کا وجود نہ ہوتا، جس کے بغیر حیوانی زندگی ناممکن ہے۔ اسی طرح اگر سمندر کچھ فٹ اور گہرے ہوتے تو وہ کاربن ڈائی آکسائڈ اور آکسیجن کو جذب کرلیتے اور زمین کی سطح پر کسی قسم کی نباتات کا زندہ رہنا ممکن تھا۔ اگر زمین کے اوپر کی ہوائی فضا موجودہ کی نسبت سے لطیف ہوتی تو شہاب ثاقب (meteorite) جو ہر روز اوسطاً دو کرور کی تعداد میں اوپری فضا میں داخل ہوتے ہیں، اور رات کے وقت ہم کو جلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہ زمین کے ہر حصے میں گرتے۔ یہ شہابے (meteorites) چھ سے چالیس میل تک فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ وہ زمین کے اوپر ہر آتش پذیر مادے کو جلا دیتے اور سطح زمین کو چھلنی کر دیتے۔ شہاب ثاقب بندوق کی گولی سے نوے گنا زیادہ رفتار سے آدمی جیسی مخلوق کو محض اپنی گرمی سے ٹکڑے کر دیتی۔ مگر ہوائی کرہ اپنی نہایت موزوں دبازت (thickness) کی وجہ سے ہم کو اس آتشی بوچھاڑ (fiery onslaught) سے محفوظ رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader