کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوائی کَرہ ٹھیک کثافت رکھتا ہے کہ سورج کی کیمیاوی اہمیت رکھنے والی شعاعیں (actinic rays) اسی موزوں مقدار سے زمین پر پہنچتی ہیں، جتنی نباتات کو اپنی زندگی کے لیے ضرورت ہے، جس سے مضر بیکٹیریا مر سکتے ہیں، جس سے وٹامن تیار ہوتے ہیں، وغیرہ وغیرہ ــ کمیت کا اس طرح عین ہماری ضرورتوں کے مطابق ہونا کس قدر عجیب ہے۔ زمین کی اوپری فضا چھ گیسوں کا مجموعہ ہے، جس میں تقریباً 78 فیصدی نائٹروجن اور 21 فیصدی آکسیجن ہے۔ باقی گیسیں بہت خفیف تناسب میں پائی جاتی ہیں۔ اس فضا سے زمین کی سطح پر تقریباً پندرہ پونڈ فی مربع انچ کا دباؤ پڑتا ہے، جس میں آکسیجن کا حصہ تین پونڈ فی مربع انچ ہے۔ موجودہ آکسیجن کا بقیہ حصہ زمین کی تہوں میں جذب ہے، اور وہ دنیا کے تمام پانی کا 8/10 حصہ بناتا ہے۔ آکسیجن تمام خشکی کے جانوروں کے لیے سانس لینے کا ذریعہ ہے، اور اس مقصد کے لیے اس کو فضا کے سوا کہیں اور سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ انتہائی متحرک گیسیں کس طرح آپس میں مرکب ہوئیں، اور ٹھیک اس مقدار اور اس تناسب میں فضا کے اندر باقی رہ گئیں جو زندگی کے لیے ضروری تھا۔ مثال کے طور پر آکسیجن اگر 21 فیصدی کے بجائے پچاس فیصدی یا اس سے زیادہ مقدار میں فضا کا جزو ہوتا تو سطح زمین کی تمام چیزوں میں آتش پذیری (inflammability) کی صلاحیت اتنی بڑھ جاتی کہ ایک درخت میں آگ پکڑتے ہی سارا جنگل بھک سے اڑ جاتا۔ اسی طرح اس کا تناسب گھٹ کر دس فیصدی رہتا تو ممکن ہے زندگی صدیوں کے بعد اس سے ہم آہنگی اختیار کر لیتی۔ مگر انسانی تہذیب موجودہ شکل میں ترقی نہیں کر سکتی تھی، اور اگر آزاد آکسیجن بھی بقیہ آکسیجن کی طرح زمین کی چیزوں میں جذب ہوگئی ہوتی تو حیوانی زندگی سرے سے ناممکن ہوجاتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader