کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
آکسیجن، ہائیڈروجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن گیسیں الگ الگ اور مختلف شکلوں میں مرکب ہو کر حیات کے اہم ترین عناصر ہیں۔ یہی وہ بنیادیں ہیں، جن پر زندگی قائم ہے۔ اس کا ایک فی ارب (1 in 1,000,000,000) بھی امکان نہیں ہے کہ وہ تمام ایک وقت میں کسی ایک سیارہ پر اس مخصوص تناسب کے ساتھ اکٹھا ہو جائیں۔ ایک عالم طبیعیات کے الفاظ میں — سائنس کے پاس ان حقائق کی توجیہہ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے، اور اس کو اتفاق کہنا ریاضیات سے کشتی لڑنے کے ہم معنی ہے: Science has no explanation to offer for the facts, and to say it is accidental is to defy mathematics (p. 33) ہماری دنیا میں بے شمار ایسے واقعات موجود ہیں، جن کی توجیہہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ اس کی تخلیق میں ایک برتر ذہانت کا دخل تسلیم کیا جائے۔ پانی کی اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ برف کی کثافت (density) پانی سے کم ہوتی ہے۔ پانی وہ واحد معلوم مادہ ہے، جو جمنے کے بعد ہلکا ہو جاتا ہے۔ یہ چیز بقائے حیات کے لیے زبردست اہمیت رکھتی ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ برف پانی کی سطح پر تیرتا رہتا ہے، اور دریاؤں، جھیلوں اور سمندروں کی تہہ میں بیٹھ نہیں جاتا۔ ورنہ آہستہ آہستہ سارا پانی ٹھوس اور منجمد ہو جائے۔ یہ پانی کی سطح پر ایک ایسی حاجب تہہ بن جاتا ہے کہ اس کے نیچے کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے اوپر ہی اوپر رہتا ہے۔ اس نادر خاصیت کی وجہ سے مچھلیاں اور دیگر آبی جانور زندہ رہتے ہیں۔ اس کے بعد جونہی موسم بہار آتا ہے برف فوراً پگھل جاتا ہے۔ اگر پانی میں یہ خاصیت نہ ہوتی تو خاص طور پر سرد ملکوں کے لوگوں کو بہت بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader