کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی کے آغاز میں جب امریکہ میں اینڈ وتھیا (Endothia) نام کی بیماری شاہ بلوط (Chestnut) کے درختوں پر حملہ آور ہوئی ، اور تیزی سے پھیلی تو بہت سے لوگوں نے جنگل کی چھتری میں شکاف دیکھ کر کہا : ” یہ شکاف اب پر نہیں ہوں گے۔ “ امریکی شاہ بلوط کی بالادستی کو ابھی تک کسی اور قسم کے اشجار نے نہیں چھینا تھا۔ اونچے درجے کی دیر پا عمارتی لکڑی اور اس طرح کے دوسرے فوائد اس کے لیے خاص تھے۔ یہاں تک کہ 1900ء میں ایشیا سے اینڈوتھیا نام کی بیماری کا ورود ہوا۔ اس وقت تک یہ جنگلات کا بادشاہ خیال کیا جاتا تھا۔ مگر اب جنگلات میں یہ درخت ناپید ہو چکا ہے۔ لیکن جنگلات کے یہ خالی جگہیں جلد ہی دوسری قسم کے درختوں سے پر ہو گئے۔ امریکن ٹیولپ ٹری (Tulip Trees) اپنی نشوونما کے لیے شاید انھیں شکافوں کا انتظار کر رہے تھے۔ شکاف پیدا ہونے سے پہلے تک یہ درخت جنگلات کا معمولی جزء تھے، اور بہت ہی کم بڑھتے اور پھولتے تھے۔ لیکن اب شاہ بلوط کی عدم موجودگی کا کسی کو احساس تک نہیں ہوتا۔ کیونکہ اب دوسری قسم کے درخت پوری طرح ان کی جگہ لے چکے ہیں۔ یہ دوسرے درخت سال بھر میں ایک انچ محیط میں اور چھ فٹ لمبائی میں بڑھتے ہیں۔ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھنے کے علاوہ بہترین لکڑی ان سے حاصل کی جاتی ہے، جو بالخصوص باریک تہوں کے کام آسکتی ہے۔ اسی صدی کا واقعہ ہے۔ ناگ پھنی کی ایک قسم آسٹریلیا میں کھیتوں کی باڑ قائم کرنے کے لیے بوئی گئی ہے۔ آسٹریلیا میں اس ناگ پھنی کا کوئی دشمن کیڑا نہیں تھا۔ چنانچہ وہ بہت تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی۔ یہاں تک کہ انگلینڈ کے برابر رقبہ پر چھا گئی۔ وہ شہروں اور دیہاتوں میں آبادی کے اندر گھس گئی ، کھیتوں کو ویران کر دیا۔ اور زراعت کو نا ممکن بنا دیا۔ کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader