Urdu book · خدا کی دریافت

کائنات میں خدا کی گواہی

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

تدبیر بھی اس کے خلاف کارگر ثابت نہیں ہوتی تھی۔ ناگ پھنی آسٹریلیا کے اوپر ایک ایسی فوج کی طرح مسلط تھی، جس کا اس کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا۔ بالآخر ماہرین حشرات الارض دنیا بھر میں اس کا علاج تلاش کرنے کے لیے نکلے۔ یہاں تک کہ ان کی رسائی ایک کیڑے تک ہوئی جو صرف ناگ پھنی کھا کر زندہ رہتا تھا۔ اس کے سوا اس کی کوئی خوراک نہیں تھی۔ وہ بہت تیزی سے اپنی نسل بڑھاتا تھا اور آسٹریلیا میں اس کا کوئی دشمن نہیں تھا۔ اسی کیڑے نے آسٹریلیا میں ناگ پھنی کی ناقابل تسخیر فوج پر قابو پالیا، اور اب وہاں سے اس مصیبت کا خاتمہ ہوگیا قدرت کے نظام میں یہ ضبط و توازن (checks and balances) کی عظیم تدبیریں کیا کسی شعوری منصوبے کے بغیر خود بخود وجود میں آ جاتی ہیں۔ کائنات میں حیرت انگیز طور پر ریاضیاتی قطعیت پائی جاتی ہے۔ یہ جامد بے شعور مادہ جو ہمارے سامنے ہے، اس کا عمل غیر منظم اور بے ترتیب نہیں بلکہ وہ متعین قوانین کا پابند ہے۔ ’’پانی‘‘ کا لفظ خواہ دنیا کے جس خطہ میں اور جس وقت بھی بولا جائے، اس کا ایک ہی مطلب ہوگا — ایک ایسا مرکب جس میں 11.1 فی صد ہائیدروجن اور 88.9 فی صد آکسیجن۔ ایک سائنسداں جب تجربہ گاہ میں داخل ہو کر پانی سے بھرے ہوئے ایک پیالے کو گرم کرتا ہے تو وہ تھر مامیٹر کے بغیر یہ بتا سکتا ہے کہ پانی کا نقطہ جوش 100 سینٹی گریڈ ہے جب تک ہوا کا دباؤ (atmospheric pressure) 1760 ایم ایم رہے۔ اگر ہوا کا دباؤ اس سے کم ہو تو اس حرارت کو لانے کے لیے کم طاقت درکار ہوگی جو پانی کے سالمات کو توڑ کر بخارات کی شکل دیتی ہے۔ اس طرح نقطہ جوش سو درجہ سے کم ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر ہوا کا دباؤ 760mm سے زیادہ ہو تو نقطہ جوش بھی اسی لحاظ سے زیادہ ہو جائے گا۔ یہ تجربہ اتنی بار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page