کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
آزمایا گیا ہے کہ اس کو یقینی طور پر پہلے سے بتایا جاسکتا ہے کہ پانی کا نقطۂ جوش کیا ہے۔ اگر مادہ اور توانائی کے عمل میں یہ نظم اور ضابطہ نہ ہوتا تو سائنسی تحقیقات اور ایجادات کے لیے کوئی بنیاد نہ ہوتی۔ کیونکہ پھر اس دنیا میں محض اتفاقات کی حکمرانی ہوتی اور علمائے طبیعیات کے لیے یہ بتانا ممکن نہ رہتا کہ فلاں حالت میں فلاں طریقِ عمل کے دہرانے سے فلاں نتیجہ پیدا ہوگا۔ کیمیا کے میدان میں نو وارد طالبِ علم سب سے پہلے جس چیز کا مشاہدہ کرتا ہے، وہ عناصر میں نظم اور دوری ضابطہ (Periodic Law) ہے۔ سو سال پہلے ایک روسی ماہرِ کیمیا منڈلیف (Dmitri Mendeleev, 1834-1907) نے جوہری قدر کے لحاظ سے مختلف کیمیائی عناصر کو ترتیب دیا تھا جس کو دوری نقشہ (periodic chart) کہا جاتا ہے۔ اس وقت تک موجودہ تمام عناصر دریافت نہیں ہوئے تھے اس لیے اس کے نقشے میں بہت سے عناصر کے خانے خالی تھے جو عین اندازے کے مطابق بعد کو پُر ہوگئے، ان نقشوں میں سارے عناصر جوہری نمبروں کے تحت اپنے اپنے مخصوص گروپوں میں درج کیے جاتے ہیں۔ جوہری نمبر سے مراد مثبت برق یوں (protons) کی وہ تعداد ہے جو ایٹم کے مرکز میں موجود ہوتی ہے۔ یہی تعداد ایک عنصر کے ایٹم اور دوسرے عنصر کے ایٹم میں فرق پیدا کردیتی ہے۔ ہائیڈروجن جو سب سے سادہ عنصر ہے، اس کے ایٹم کے مرکز میں ایک پروٹون ہوتا ہے۔ ہیلیم میں دو اور لیتھیم میں تین۔ مختلف عناصر کی جدول تیار کرنا اسی لیے ممکن ہو سکا ہے کہ ان میں حیرت انگیز طور پر ایک ریاضیاتی اصول کار فرما ہے۔ نظم و ترتیب کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ عنصر نمبر 101 کی شناخت محض اس کے 17 پروٹونوں کے مطالعہ سے کر لی گئی۔ قدرت کی اس حیرت انگیز تنظیم کو ہم دوری اتفاق (periodic chance) نہیں کہتے بلکہ اس کو دوری ضابطہ (periodic law) کہتے ہیں۔ مگر نقشہ اور ضابطہ جو یقینی طور پر ناظم اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader