کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
منصوبہ ساز کا تقاضا کرتے ہیں، اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اگر خدا کو نہ مانے تو وہ خود اپنی تحقیق کے ایک لازمی نتیجے کا انکار کرے گی۔ مثال کے طور پر ”11 اگست 1999ء میں ایک سورج گرہن واقع ہوا، جو انگلینڈ کے کارنوال (Cornwall) میں مکمل طور پر دیکھا گیا“۔ لیکن اس کی قیاسی پیشین گوئی پہلے کر دی گئی تھی۔ اس لیے یورپ میں دیکھا گیا 1999ء کا مکمل سورج گرہن تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا سورج گرہن تھا۔ سائنسدانوں سمیت بہت سے لوگ اس سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے دور دراز سے سفر طے کر کے گرہن زدہ خطے میں پہنچے تھے۔ اسی طرح 22 جولائی 2009ء کو لگنے والا گرہن اکیسویں صدی کا طویل ترین سورج گرہن تھا، جس کا دورانیہ ساڑھے پانچ گھنٹے تھا۔ اسے پاکستان، بھارت اور چین میں دیکھا گیا۔ اس قسم کا طویل سورج گرہن اس کے بعد 123 سال بعد 2132ء میں دیکھا جا سکے گا۔ علمائے فلکیات یقین رکھتے ہیں کہ نظام شمسی کے موجودہ گردش نظام کے تحت متعین وقت اور تاریخ میں اس قسم کے گرہن کا پیش آنا یقینی ہے۔ جب ہم آسمان میں نظر ڈالتے ہیں تو ہم لاتعداد ستاروں کو ایک نظام میں منسلک دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ ان گنت صدیوں سے اس فضائے بسیط میں جو عظیم گیندیں معلق ہیں، وہ ایک ہی معین راستے پر گردش کرتی چلی جارہی ہیں۔ وہ اپنے مداروں میں اس نظم کے ساتھ آتی اور جاتی ہیں کہ ان کے جائے وقوع اور ان کے درمیان ہونے والے واقعات کا صدیوں بیشتر بالکل صحیح طور پر اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ پانی کے ایک حقیر قطرے سے لے کر فضائے بسیط (space) میں پھیلے ہوئے دور دراز ستاروں تک ایک بے مثال نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ ان کے عمل میں اس درجہ یکسانیت ہے کہ ہم اس بنیاد پر قوانین مرتب کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader