کائنات میں خدا کی گواہی
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
نیوٹن کا نظریہ کشش فلکیاتی کروں کی گردش کی توجیہ کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں برٹش سائنٹسٹ جے سی ایڈمس (1819-1892 John Couch Adams) اور فرینچ سائنٹسٹ لاویرے (1811-1877 Urbain Jean Joseph Le Verrier) کو وہ بنیادی ملی، جس سے وہ دیکھے بغیر صرف ریاضیاتی بنیادوں پر ایک ایسے سیارے کے وجود کی پیشین گوئی کر سکیں، جو اس وقت تک نامعلوم تھا۔ چنانچہ ستمبر 1846ء کی ایک رات کو جب برلن آبزرویٹری کی دوربین کا رخ آسمان میں ان کے بتائے ہوئے مقام کی طرف کیا گیا تو فی الواقع نظر آیا کہ ایسا ایک سیارہ نظام شمسی میں موجود ہے، جس کو اب ہم نیپچون (Neptune) کے نام سے جانتے ہیں۔ کس قدر نا قابل قیاس بات ہے کہ کائنات میں یہ ریاضیاتی قطعیت خود بخود قائم ہو گئی ہے۔ میں یہ دیتا ہوں۔ یہ تو دوسرا انداز ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader