خدا کی دریافت
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
اجرامِ سماوی کے اتنے بڑے نظام کو کیا چیز تھامے ہوئے ہے، فلکیات دانوں کے نزدیک وہ اجرامِ سماوی کی باہمی کشش ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ”اجرامِ سماوی کی باہمی کشش“ کے لفظ کی معنویت کو آدمی سمجھ لیتا ہے۔ مگر ”خدا“ کے لفظ کی معنویت اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ زمین، ایک نشانی لیوس ٹامس (1913-1993, Lewis Thomas) ایک امریکی سائنس داں اور فلسفی ہے۔ بائیولوجی پر اس کی ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں اس نے زمین کی بابت یہ الفاظ لکھے ہیں— وہ خلا میں لڑکا ہوا، اور بظاہر ایک زندہ کرہ ہے: hanging there in space and obviously alive. (Lewis Thomas, The Fragile Species, Collier, 1993, p. 135) یہ زمین (planet earth) کی نہایت صحیح تصویر ہے۔ زمین ایک اتھاہ خلا (vast space) میں مسلسل گردش کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ زمین کے جو احوال ہیں، وہ انتہائی استثنائی طور پر ایک زندہ کرہ کے احوال ہیں۔ یہ چیزیں اتنی حیرت ناک ہیں کہ اگر ان کو سوچا جائے، تو رونگٹے کھڑے ہو جائیں، اور بدن میں کپکپی طاری ہو جائے ۔ زمین میں اور بقیہ کائنات میں اتنی زیادہ نشانیاں ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان میں سنجیدگی سے (sincerely) غور کرے، تو یہ کائنات اس کے لیے خدا کی معرفت اور جلال و جمال کا آئینہ بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader