ناقابل توجیہ
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
ناقابل توجیہ انسانی دماغ اتنا زیادہ پیچیدہ ہے کہ بے شمار تحقیقات کے باوجود آج بھی ہم اس کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ ایک محقق کے الفاظ میں، دماغ کے بارے میں ہمارا علم جتنا بڑھتا ہے اتنا ہی زیادہ پتہ چلتا ہے کہ ہم کتنا کم جانتے ہیں، اور ابھی کتنا زیادہ جاننا باقی ہے: The more we know the more we realize how little we know and how much more we need to know. تحقیقات بتاتی ہیں کہ آئن سٹائن جیسے عبقری انسان جنھوں نے بہ ظاہر اپنی ذہنی صلاحیت کو آخری حد تک استعمال کیا، انھوں نے بھی حقیقتاً اپنے دماغ (brain) کا بہت چھوٹا سا حصہ استعمال کیا۔ ان کے دماغ کا بیشتر حصہ غیر استعمال شدہ رہا، یہاں تک کہ ان کی موت آگئی۔ اس کی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فطرت نے کیوں اور کیسے ارتقائی عمل کے ذریعے اس معجزاتی چیز کو پیدا کیا جس کو دماغ کہا جاتا ہے: Why and how then has nature produced through the evolutionary process this marvellous thing called the human brain. کہا جاتا ہے کہ ضرورت اور استعمال سے چیزیں ترقی کرتی ہیں۔ مگر جو دماغ سرے سے استعمال ہی نہیں ہوا وہ کیسے وجود میں آیا۔ ڈارونزم کا کہنا ہے کہ جسمانی اعضا اور دماغ پہلے سے پیدا شدہ موجود نہیں تھے۔ وہ حالات کے مقابلے میں زندہ رہنے کی کوشش کے دوران وجود میں آئے ہیں: The human organism, including the brain, has developed in response to the challenges it has faced in it effort to survive.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader