Urdu book · خدا کی دریافت

ناقابل توجیہ

Urdu book, p. 237

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر سوال یہ ہے کہ دماغ کے جو حصے سے کبھی استعمال ہی نہیں ہوئے وہ آخر کیسے وجود میں آ کر ترقی کرنے لگے۔ جب ’’استعمال‘‘ چیزوں کا خالق ہے تو ’’عدم استعمال‘‘ نے کس طرح چیزوں کو پیدا کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر استعمال شدہ دماغ کا ہر انسان کے ساتھ پیدا ہونا اور مسلسل موجود رہنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ خارج سے انسان کو دیے جا رہے ہیں نہ کہ انسانی کوشش سے اس کو حاصل ہو رہے ہیں۔ غیر استعمالی دماغ کی موجودگی ڈارون کے اس نظریے کی نفی کر رہی ہے کہ فطرت میں بقائے اصلح (survival of the fittest) اور انتخابی طریق عمل (selection process) پایا جاتا ہے۔ انسانی دماغ موجودہ زمانے کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انسان کے دماغ (brain) میں جو پارٹیکل ہیں وہ پوری کائنات کے مجموعی پارٹیکل سے بھی زیادہ ہیں۔ انسانی دماغ کی استعداد بے پناہ ہے مگر کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی اب تک اپنے دماغ کو دس فی صد سے زیادہ استعمال نہ کر سکا۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی ایک امکان ہے۔ مگر موجودہ دنیا اپنی محدودیتوں کے ساتھ اس امکان کے ظہور کے لیے ناکافی ہے۔ انسانی امکان کے ظہور میں آنے کے لیے ایک لامحدود اور وسیع تر دنیا درکار ہے۔ جنت کی دنیا، ایک اعتبار سے، اسی لیے بنائی گئی ہے کہ وہاں آدمی کے امکانات پوری طرح ظہور میں آسکیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page