یہ محکم نظام
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ محکم نظام خلا میں بے شمار ستارے ہر وقت گردش کرتے رہتے ہیں۔ مگر ان میں ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اگر خلا کا ایک کرہ دوسرے کرے سے ٹکرا جائے تو زبردست تباہی برپا ہو۔ ہمارا سولر سسٹم ملکی وے کا حصہ ہے۔ اس میں سورج کے محل وقوع کا زمین پر زندگی کے بقا میں بہت اہم کردار ہے۔ سورج اس علاقے سے دور ہے، جہاں خطرناک سپر نووا کی کثرت پائی جاتی ہے۔ اس دوری کی وجہ سے زمین سپر نووا کے خطرناک اثرات سے محفوظ ہے۔ سورج کہکشاں کے ایک کنارے پر واقع ہے۔ اگر وہ ملکی وے کے مرکز میں واقع ہوتا تو وہاں پر کثیر تعداد میں موجود اجسام زمین سے ٹکرا سکتے تھے۔ اسی طرح کہکشاں کے مرکز سے آنے والی الیکٹرو میگنیٹک لہریں کچھ جانداروں کے لیے نقصان دہ بھی ہوسکتی تھیں۔ چاند انتہائی چھوٹا ہے۔ اس کی حقیقت عظیم خلا میں ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں۔ پھر وہ ہماری زمین سے سب سے قریب ہے۔ اس کے باوجود وہ زمین سے نہیں ٹکراتا۔ جب کہ انسان کے بنائے ہوئے مصنوعی سیارے برابر اپنی عمر ختم کر کے زمین پر گرتے رہتے ہیں۔ چاند کا وزن اندازے کے مطابق، 73.5 ملین میٹرک ٹن ہے۔ اس کا قطر 3500 کلومیٹر ہے، اور زمین سے اس کا فاصلہ 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر ہے۔ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے اور چاند زمین کے گرد۔ یہ سلسلہ اربوں سال سے جاری ہے۔ مگر ان کا نظام اتنا محکم ہے کہ وہ نہایت صحت کے ساتھ اپنے مدار (orbit) پر باقی ہے۔ چاند کو زمین کی مقناطیسی قوت (magnatic force) اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مگر خود چاند کی حرکت کی قوت اس کو مسلسل زمین سے دور ہٹاتی ہے۔ کشش اور حرکت کی ان قوتوں کے باہمی عمل کے نتیجے میں چاند کا راستہ ایک لمبے بیضاوی مدار کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ تمام آسمانی اجسام اسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader