Urdu book · خدا کی دریافت

کائنات کی نشانیاں

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات کی نشانیاں "پتھر اور لکڑی کو کوٹ پیس کر ملا دو تو وہ پٹرول بن جائے گا۔" اس قسم کی بات بہ ظاہر بالکل مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔ یقیناً انسان اس طرح کا کوئی واقعہ ظہور میں لانے پر قادر نہیں۔ مگر اسی قسم کے اس سے زیادہ عجیب واقعات اس دنیا میں ہر دن ظہور میں آ رہے ہیں۔ قدرت کی کیمسٹری ہر دن ایسے بے شمار واقعات ظہور میں لاتی ہے، جو انسان کے لیے صرف ایک ناقابل فہم عجوبے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آکسیجن اور ہائیڈروجن دو گیسیں ہیں۔ قدرت ان کو ایک خاص تناسب سے ملاتی ہے تو ان کا مجموعہ پانی جیسے سفید سیال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ کاربن کے ساتھ کچھ نمکیات اور معدنیات جمع ہوتی ہیں تو زندگی وجود میں آ جاتی ہے۔ مقناطیسی فیلڈ اور حرکت کو یکجا کیا جاتا ہے تو بجلی جیسی حیرت ناک طاقت پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح مقناطیسی فیلڈ اور بجلی کو اکٹھا کیا جاتا ہے تو انتہائی تیز حرکت وجود میں آ جاتی ہے۔ ایک بیج کو مٹی میں ملا دیا جاتا ہے تو اس سے لکڑی اور پتی اور پھول اور پھل کا ایک مجموعہ نکل کر کھڑا ہو جاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس قسم کے بے شمار کرشمے کائنات میں ہر لمحہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ انسان ان کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ نہ خود ان چیزوں میں اپنے آپ کو ظہور میں لانے کی طاقت ہے، اور نہ انسان اس پر قادر ہے کہ وہ بطور خود کسی واقعے کو پیدا کر سکے۔ "پھر یہ سب کیسے ہو رہا ہے۔" اس سوال کے جواب میں کوئی انسان کہہ دیتا ہے کہ یہ سب خدا کا انش (جزء) ہے۔ یعنی یہ خود خدا ہے، جو اُن گنت صورتوں میں اپنے آپ کو ظاہر کر رہا ہے۔ قرآن اس قسم کے جواب کو غیر صحیح قرار دیتا ہے۔ قرآن کے نزدیک یہ چیزیں خدا کا انش نہیں، بلکہ خدا کا حکم ہیں۔ یعنی خدا نے اپنی قدرت سے ان کو پیدا کیا ہے، نہ کہ خود خدا ان کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page