حفاظتی ڈھال
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں صنعتی تمدن نے انسان کے لیے نئے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ان میں ایک خطرناک مسئلہ یہ ہے کہ جدید صنعتوں کے پیدا کردہ بعض گیسوں کی وجہ سے اوزون کی تہ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اب یہ خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ فضا کی اوزون میں رخنہ پڑنے سے، کم از کم جزوی طور پر، الٹرا وائلٹ شعاعوں کو زمین تک پہنچنے کا راستہ مل جائے اور پھر انسان کے لیے طرح طرح کے ناقابلِ حل مسائل پیدا ہوجائیں۔ موجودہ زمانے میں اس پر باقاعدہ ریسرچ کی جاری ہے، اور اس سلسلے میں کافی لٹریچر شائع کیا گیا ہے۔ ٹائم میگزین (17 فروری 1992) نے اس مسئلے کو اپنی کور اسٹوری بنایا ہے۔ اس کا عنوان ہے ــ ختم ہوتی ہوئی اوزون، خطرہ قریب آ رہا ہے: Vanishing Ozone: the Danger Comes Closer. زندگی کے لیے یہ ضروری گیس جس کی بربادی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے، وہ آکسیجن کی ایک قسم ہے جس کے مالیکیول میں تین ایٹم ہوتے ہیں، جب کہ عام آکسیجن کے مالیکیول میں دو ایٹم ہوتے ہیں۔ ڈھانچے میں اس سادہ تبدیلی نے اوزون میں یہ صلاحیت پیدا کردی ہے کہ وہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کو جذب کرسکیں: The vital gas being destroyed is a form of oxygen in which the molecules have three instead of the normal two. The simple structure enables ozone to obsorb ultraviolet radiation. (p. 41) سائنسی نقطہ نظر سے مالیکیول کے ایٹمی ڈھانچے میں یہ تبدیلی ہی وہ سبب ہے، جس کی بنا پر اوزون اس صفت کی حامل گیس بن گئی ہے کہ وہ سورج سے آنے والی مضر گیس کو اپنے اندر جذب کرلے اور اس کو زمین کی سطح تک پہنچنے نہ دے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ بالائی فضا میں اوزون کی یہ کیسی چادر ہم کو مسلسل طور پر الٹرا وائلٹ شعاعوں کے مہلک اثرات سے بچائے ہوئے ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader