Urdu book · خدا کی دریافت

حفاظتی ڈھال

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر کوئی عقلی یا سائنسی دلیل یہ ثابت کرنے کے لیے موجود نہیں کہ ایٹم کی تعداد میں تبدیلی بذات خود اپنے اندر اس قسم کی انوکھی اور مفید صلاحیت رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اس آسمانی آگ سے بچانے والا خدا ہے۔ ظاہری طور پر مذکورہ تبدیلی اس لیے پیدا کی گئی تا کہ آدمی اس کو دیکھ کر ٹھٹکے۔ وہ اس ظاہری واقعے کو دیکھ کر اندرونی حقیقت تک پہنچ سکے۔ ایک طرف فطرت کے نظام میں اوزون گیس کا ہونا، دوسری طرف جدید صنعتی نظام کے تحت اوزون گیس کی تباہی، یہ دونوں واقعات بے حد سبق آموز ہیں، اور ان میں سوچنے والوں کے لیے عظیم نشانی پائی جاتی ہے۔ بالائی فضا میں اوزون گیس کی موٹی تہہ کا پایا جانا ظاہر کرتا ہے کہ جس ہستی نے دنیا کا نظام بنایا، اس کو پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ زمین پر بسنے والے انسانوں کی کیا ضرورتیں ہوں گی۔ اس نے تجربے سے پہلے یہ جانا کہ سورج کی شعاعوں میں افادیت کے ساتھ نقصان کے پہلو بھی موجود ہیں۔ اس نے افادیت کے پہلو کو مستحکم کیا اور نقصان والے پہلو سے بچاؤ کا انتظام کر دیا تا کہ انسان جب زمین پر بسے تو وہ سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے محفوظ رہے، سورج کی صرف مفید شعاعیں انسانوں تک پہنچ سکیں۔ اب دوسرے رخ کو دیکھیے، جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہمارے سامنے آیا ہے۔ انسان نے ساٹھ سال پہلے وہ چیز دریافت کی جس کو ایر کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ اس دریافت نے انسان کو غیر معمولی طور پر راحت کا سامان دیا۔ ایر کنڈیشنڈ مکان اور دفاتر اور مختلف بلڈنگیں ماڈرن زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ جب یہ صنعت دریافت ہوئی تو وہ خیر ہی خیر نظر آتی تھی، مگر جدید تحقیقات نے بتایا کہ اس خیر میں شر بھی چھپا ہوا ہے۔ موجودہ ایر کنڈیشننگ کا سسٹم سی ایف سی پر مبنی سسٹم (CFC-based system) ہے۔ سی ایف سی ٹکنالوجی آج انسان کے لیے زبردست خطرہ بن گئی ہے۔ سی ایف سی سے مراد کلوروفلور کاربن (chlorofluorocarbons) ہے۔ یہ ایک کیمیکل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page