کائنات اور انسان
Urdu book, p. 255
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات اور انسان موجودہ اندازے کے مطابق کائنات میں کم از کم دس ارب کہکشائیں (galaxies) ہیں۔ ہر کہکشاں میں تقریباً ایک کھرب ستارے ہیں۔ ان میں سے اکثر ستارے ہمارے سورج سے بہت زیادہ گرم اور بہت زیادہ بڑے ہیں جب کہ ہمارا سورج اتنا بڑا ہے کہ اس سے زمین جیسے بارہ لاکھ کرے بنائے جاسکتے ہیں۔ یہ ان گنت متحرک ستارے ایک دوسرے سے اتنے زیادہ دوری پر ہیں جیسے بحر الکاہل میں بکھرے ہوئے چند سمندری جہاز۔ اس ناقابلِ قیاس حد تک بڑی دنیا میں زمین کا چھوٹا سا کرہ (planet) ایک انتہائی نادر استثنا ہے، جہاں پانی اور ہوا اور دوسری چیزیں ہیں جو انسان جیسی مخلوق کے لیے زندگی کا سامان بن سکیں ۔ یہ دنیا اپنی ساری عظمتوں اور حکمتوں کے باوجود انسان کے بغیر بالکل بے معنی ہے۔ مگر خود انسان کی زندگی اتنی زیادہ بے معنی معلوم ہوتی ہے کہ ساری کائنات میں بہ ظاہر اس سے زیادہ بے معنی کوئی چیز نہیں۔ انسان اگر نہ ہو تو یہاں کوئی آنکھ نہ ہوگی جو دنیا کی رنگینیوں کو دیکھے، اور کوئی کان نہ ہوگا جو اس کے نغموں کو سنے، اور کوئی دماغ نہ ہوگا جو اس کی حکمت اور معنویت کو پائے۔ یہ دنیا ایک عظیم ترین آرٹ ہے، مگر انسان کے بغیر وہ ایک ایسا آرٹ ہے، جس کا کوئی جاننے والا نہیں۔ جس کی کوئی داد دینے والا نہیں۔ انسان بہ اعتبار حقیقت انتہائی بامعنی ہے۔ مگر انسان کا کائنات کے موجودہ نظام میں اپنی معنویت کو نہیں پاتا۔ یہاں انسان کی تمنائیں پوری نہیں ہوتیں۔ موجودہ دنیا اپنی تکمیل کے لیے ایک اور دنیا کی طالب ہے۔ موجودہ دنیا اپنی ساری معنویت کے باوجود بے معنی ہے، اگر اس کے ساتھ آخرت کو نہ مانا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader