Urdu book · خدا کی دریافت

توازنِ فطرت

Urdu book, p. 256

By Maulana Wahiduddin Khan

توازن فطرت قطب جنوبی (انٹارکٹکا) کے بارے میں روسی جغرافیہ سوسائٹی نے تحقیقات کی ہیں۔ انھوں نے اندازہ لگایا ہے کہ قطب جنوبی کے اوپر جو برف جمی ہوئی ہے، وہ دنیا بھر کے تازہ پانی کا 85 فی صد حصہ ہے۔ اس کی مقدار ڈھائی کروڑ مکعب میٹر (cubic metre) ہے۔ قطب جنوبی کی برف اس وقت صرف ڈیڑھ کروڑ مربع میٹر (square meter) کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔ اگر اس برف کو دنیا کے تمام خشک حصے پر پھیلا دیا جائے تو موجودہ خشک زمین پر 50 میٹر برف جم جائے گی، اور اگر یہ برف اچانک پگھل جائے تو دنیا کے سمندروں کی سطح 60 سے 70 میٹر تک بلند ہو جائے گی، اور زمین کا دس فی صد حصہ زیر آب ہو جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا بھر کے تمام ساحلی شہر پانی کے نیچے ڈوب جائیں گے۔ حتیٰ کہ بہت سے ملک پوری طرح پانی کے نیچے چلے جائیں گے۔ قطب جنوبی کی تمام برف پگھلنے کی صورت میں سمندر کی اوسط حرارت دو ڈگری کم ہو جائے گی۔ اس کی وجہ سے زمین پر موسمی تباہی آجائے گی۔ کیوں کہ سمندر میں ایک ڈگری کے ہزارویں حصے کی کمی کی بیشی فضا میں پوری ایک ڈگری کی حرارت کا فرق پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمین پر جو نظام ہے، وہ کس قدر متوازن نظام ہے۔ یہاں بیک وقت مختلف تقاضوں کے درمیان اس طرح توازن قائم رکھا گیا ہے کہ ہر چیز صرف اپنا فائدہ دے، وہ اپنے نقصان سے انسان کو بچائے رکھے۔ فطرت کا توازن زمین کے ہر معاملے میں نمایاں ہے۔ یہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ اس دنیا کے پیچھے ایک ذہن کارفرما ہے۔ اگر یہاں ذہن کی کارفرمائی نہ ہو تو موجودہ توازن کسی حال میں برقرار نہیں رہ سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page