ذرہ بھی غائب نہیں
Urdu book, p. 263
By Maulana Wahiduddin Khan
لہروں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ انسان سمندر کے اوپر مشینی اسکرین پر سارا منظر دیکھتا ہے، اور ریڈیائی لہروں کے ذریعے روبوٹ کی رہنمائی کرتا ہے، تا کہ وہ متعین مقام پر پہنچ کر بلیک باکس کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لے، اور پھر اوپر لا کر انسان کے حوالے کر دے۔ یہ طریقہ تھا جس کو استعمال کر کے سمندر کی گہرائی سے ایک چھوٹے سے ذرے کو نکال لیا گیا، اور اس نے جہاز کے حادثے کی ساری کہانی انسان کو بتا دی۔ جب میں نے اخبارات میں ان تفصیلات کو پڑھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے اس واقعے کی صورت میں اُس عظیم تر واقعے کا اظہار(demonstration) دیا جا رہا ہے، جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوا ہے: وَمَا يَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَلَا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ (10:61)۔ یعنی تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز غائب نہیں، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader