Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 267

By Maulana Wahiduddin Khan

Spectrometers, computers are merely adjuncts to the human brain. مصنوعی ذہانت (artificial intelligence) کا مسئلہ بنیادی طور پر ابھی تک غیر حل شدہ ہے۔ مثال کے طور پر یہ آسان ہے کہ ایک ایسا کمپیوٹر بنایا جائے جو قریب قریب وہی کچھ کرنا سیکھ لے جو انسان کا دماغ کرتا ہے۔ تاہم اس کمپیوٹر کو بنیادی رہنمائی دینا پھر بھی حیاتیاتی ذہانت کا کام رہے گا، نہ کہ کسی مشینی ذہانت کا۔ اس طرح کمپیوٹر کی قسم کے تمام اوزار محض انسانی دماغ کے لاحقے ہیں (ٹائمز آف انڈیا 27 فروری 1980) مشینی ذہانت (machine intelligence) کے بارے میں اس تجربے نے ان لوگوں کو سخت مایوس کیا ہے، جو یہ امید قائم کیے ہوئے تھے کہ انسان کو بھی اسی طرح ایک خود کار قسم کا مشینی حیوان ثابت کیا جاسکتا ہے، اور پھر خدا کو ماننے کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ مگر مشینی انسان کا اپنی کارکردگی کے لیے زندہ انسان کا محتاج ہونا ثابت کرتا ہے کہ انسان کی ہستی کی توجیہ ایک بالا تر ہستی کو مانے بغیر ممکن نہیں۔ زندہ انسان کے بغیر مشینی انسان کا کوئی وجود نہیں، اسی طرح خدا کو تسلیم کیے بغیر انسان کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکता۔ مشینی ارتقا اپنے آپ تخلیقی ارتقا کی تردید کر رہا ہے۔ ایک مثال 18-22 اپریل 1986 کو میں نے بھوپال کا سفر کیا۔ یہ سفر تامل ناڈو ایکسپریس کے ذریعے ہوا اور واپسی کا سفر بذریعہ ہوائی جہاز طے ہوا۔ 19 اپریل کی صبح کو سو کر اٹھا، تو ہماری ٹرین مدھیہ پردیش کے میدانوں میں دوڑ رہی تھی۔ جگہ جگہ درخت اور سبزہ کا منظر تھا۔ صبح کا سورج بلند ہو کر پوری طرح فضا کو روشن کر رہا تھا۔ اس قسم کی ایک دنیا کا وجود میں آنا تمام عجائبات میں سب سے بڑا عجوبہ ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں پانی اور سبزہ ہو، جہاں سورج ایک خاص تناسب سے روشنی اور حرارت پہنچائے، جہاں بے شمار اسباب جمع ہوں، جس نے اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ ایک ٹرین تیار ہو، اور زمین کی سطح پر تیز رفتاری کے ساتھ دوڑے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page